Header Ads Widget

Responsive Advertisement
Showing posts from 2024Show all
اشک  روکا  ہوا ہے ، درد   چھپا یا ہوا ہے
اب شہر میں وہ چپ ہے کہ دل ڈوب رہا ہے
تمھارا غم ، مرے غم کے برابر ہو نہیں سکتا
تب کتابوں میں فقط پھول نہیں رکھتے تھے
دوستی کے کئی جزیرے ہیں
جہڑا چسکا راہوں وچ اے
اک نام گرامی ہے جو پہچان کرم ہے
کچھ الگ سا ہے ہمارے یار میں
مدحت کا حرف حرف محبت سے چوم کر
لبوں کو صل علی ورد مل گیا جب سے
شجر کو کاٹ کے پتھر اگائے جاتے ہیں
پھر کرم ایسے ہوا ان پہ پیغمبرﷺ اترا
ابھی سفر کے بتاؤ نہ استخارے مجھے
پرندے سارے ہجرت کر گئے تھے
خود سے ملنے کے لئے وقت کہاں ہوتا ہے
یہاں پر اب ہمارا کچھ نہیں ہے
لوگ سن لیں ، کلیجے پھٹ جائیں
پھر ایک روز کسی سمت سے گلہ آیا
میں چپ رہوں تو مجھے حرف گدگداتا ہے
ورنہ اس چوڑی کی قیمت کیا ہے؟
 رقص میں عمر تلک ایک صدا نے رکھا
 ذکر اس آنکھ کی بلاغت کا
 سلام بحضور امام حسین
 تمھیں بھی دکھ رلاتا ہے کسی کا
جہاں میں مارا گیا ہوں ، وہاں میں زندہ ہوں
‏صبر کی طاقت اور کمال
نگہ میں خواب نہیں ہیں ، دلوں میں پیار نہیں
آواز دے ، بتا مجھے ، صورت فرار کی
ہزار لہجے سہے ، حرف مرہمی کے لئے
 دیے کی دھیمی دھیمی لو کا قائل ہونا پڑتا ہے
 خواب خرامی
 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا
اسے بھی مجھ سے گلہ ہوا تھا
 حرف کے پاؤں حرف پڑتا ہے
خاک آسودہ جس کے اندر تھا
 سب دیے جب بجھائے جاتے ہیں
 رابطے آسان  ہو جائیں گے کیا
مٹی کا اک چراغ ہے ، سورج نہیں کوئی
اک قدم ہے اگر خزانے پر
بھری بہار تھی اور ہماری جھولی پھول سے خالی تھی
 حرفوں سے نکل ، سوچ کو تمثیل بھنور کر
 عین ممکن مدینے لے جائے
ہار  از محمد نور آسی
انوار میں گوندھی ہوئی طیبہ کی فضا ہے
 مزاحیہ نظم آپ کا یہ ہفتہ کیسے گزرے گا
اچھے میاں کا سہرا
 نثرانچہ  سکون
جلنا بھی منحصر ہے اسی کی بقا کے ساتھ
کنبے کے ساتھ شہر مدینہ کو چھوڑ کر
 اندھیرے میں وہی تو رکھ رہے تھے
الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر
 دیوار بھی بولے گی ابھی سوچ رہی ہے
باہر شکست و ریخت کو کیسے سنبھالتا