Skip to main content

Posts

Showing posts from May, 2024

خاک آسودہ جس کے اندر تھا

 خاک آسودہ جس کے اندر تھا

سب دیے جب بجھائے جاتے ہیں

 سب دیے جب بجھائے جاتے ہیں

رابطے آسان ہو جائیں گے کیا

 رابطے آسان  ہو جائیں گے کیا

مٹی کا اک چراغ ہے ، سورج نہیں کوئی

مٹی کا اک چراغ ہے ، سورج نہیں کوئی 

اک قدم ہے اگر خزانے پر

اک قدم ہے اگر خزانے پر  

بھری بہار تھی اور ہماری جھولی پھول سے خالی تھی

بھری بہار تھی اور ہماری جھولی پھول سے خالی تھی  

حرفوں سے نکل ، سوچ کو تمثیل بھنور کر

 حرفوں سے نکل ، سوچ کو تمثیل بھنور کر

عین ممکن مدینے لے جائے

 عین ممکن مدینے لے جائے

ہار از محمد نور آسی

 ہار  از محمد نور آسی

انوار میں گوندھی ہوئی طیبہ کی فضا ہے

انوار میں گوندھی ہوئی طیبہ کی فضا ہے  

مزاحیہ نظم آپ کا یہ ہفتہ کیسے گزرے گا

  مزاحیہ نظم آپ کا یہ ہفتہ کیسے گزرے گا ڈاکٹر عزیز فیصل پیر کی یہ سہ پہر اچانک تم کو مہنگی پڑ سکتی ہے ناک شریف پہ کوئی دبوڑی لڑ سکتی ہے چھیمو، رانو والے رقعے بیوی یکدم پھڑ سکتی ہے بات سسر تک بڑھ سکتی ہے نیلے کپڑوں والی بھکارن سے محتاط ہی رہنا آج اسے کہہ دینا۔۔ بہنا۔۔۔ دفتر سے جب واپس گھر کو آنا رستے بھر میں تم لاحول ہی پڑھتے جانا منگل کے دن کوئی شخص ڈبل شہ بن کر ایک منٹ کے اندر تم کو ٹھگ سکتا ہے کچھ داندان کو کیڑا مکوڑا لگ سکتا ہے انڈا تمھارے منہ کے اندر پھنس سکتا ہے عین چول سا بندہ تم پر ہنس سکتا ہے بدھ کو دور کے پنڈ سے کوئی گیسٹ آئے گا اپنے ساتھ سسر کے علاوہ نو دس بچے بھی لائے گا سارا ٹبر دسویں دن کو شام کا کھانا کھا کر واپس گھر جائے گا دائیں ہاتھ تمھارا یکدم دروازے میں آ سکتا ہے کوا تمھارے گنج کے اوپر اپنی بیٹ گرا سکتا ہے شک پڑنے پر ہمسائی کا وہمی شوہر تھانے میں بھی جا سکتا ہے کوئی ریڈ کرا سکتا ہے اور پولیس تمھارے دولت خانے پر بھجوا سکتا ہے جمعرات کو شام کے ساڑھے چار بجے تک کوئی تمھاری گندی وڈیو لیک کرے گا بالکل ٹھیک کرے گا آڈیو کال بھی منظر عام پہ آ سکتی ہے مس معصومہ تمھارا...

اچھے میاں کا سہرا

  اچھے میاں کا سہرا صاحبو ! افتاب قدر یعنی اچھے میاں، مہتاب قدر یعنی پیارے میاں (دونوں بھائی اپنے اخری ایام تک اسلام اباد میں F-6 میں رہائش پذیر تھے، یہ دونوں بھائی اور دلاور فگار مرحوم ہم عمر بھی تھے، بدایوں شریف میں ساتھ اسکول میں پڑھتے بھی تھے اور رشتہ داریاں بھی تھیں اپس میں۔ افتاب قدر یعنی اچھے میاں میرے سگے پھوپھا تھے۔ دلاور فگار مرحوم کو شرارت سوجھی اور ایک نقشہ کھینچا کہ دلاور فگار کے پاس ایک شاگرد بڑی بدحواسی میں ایا ہے اور کہہ رہا ہے کہ استاد ِ محترم، اچھے میاں کی اج شادی ہے اور پیارے میاں کا انتقال ہوگیا ہے، اسلیے اپ جلدی سے مجھے ایک تو سہرا لکھوادیں اور ایک مرثیہ لکھوادیں۔ دلاور فگار بہت غصہ ہوئے کہ ہمیشہ ایسی ہی بدحواسی میں اتے ہو، چلو جلدی جلدی لکھو، جب دلاور فگار مصرعہ بول رہے تھے تو شاگرد نے سہرا اور مرثیہ گڈمڈ کردیا اسکےکچھ مصرعے ادھر اور اسکے کچھ مصرعے اِدھر۔ پھر شاعر پہنچتا ہے اچھے میاں اور پیارے میاں کے گھراور بڑی ہی جلدی میں سہرا اور مرثیہ کچھ ایسے پڑھتا ہے: شاعر : دلاور فگار اچھے میاں کا عقد ہوا ہے بہار میں کہدو کسی سے پھول بچھادے مزار میں روئے حسیں پہ سہرے سے...

نثرانچہ سکون

 نثرانچہ  سکون

جلنا بھی منحصر ہے اسی کی بقا کے ساتھ

 جلنا بھی منحصر ہے اسی کی بقا کے ساتھ

کنبے کے ساتھ شہر مدینہ کو چھوڑ کر

کنبے کے ساتھ شہر مدینہ کو چھوڑ کر  نعت رسول ﷺ