Skip to main content

Posts

Showing posts from March, 2013

مشکل کشا ہتھیار

 مشکل کشا ہتھیار اررے ارررررے گھبرائیں نہیں میں کسی ایسے ہتھیار کی بات نہیں کر وں گا جس کیلئے لائسنس کی ضرورت پڑے بس ایک سادہ سا ہتھیارہے جو آپ کی بہت سی مشکلوں کو آسان کرنے میں فی زمانہ بہت کارآمد ہے جی ہاں ۔۔ اور ہتھیار کا نام ہے خوشامد جی خوشامد گرچہ بہت پرانا ہتھیار ہے مگر اس جدید دور میں بھی بہت زبردست کام کرتا ہے۔ کوئی بھی کام نکلوانا ہو۔۔ فورا خوشامد شروع کر دیں۔ اور پھر دیکھیں اس کا کمال لیکن اس کیلئے سب سے پہلے بندے کو اپنی " میں" مارنی پڑتی ہے۔ تھوڑا سا ڈھیٹ‌ہو نا پڑتا ہے۔ اس اس مقولے پر عمل کرنا پڑتا ہے کہ عزت آنے جانے والی چیز ہے وہ اپنے اس سیاستدان کا قصہ آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ جو سرکاری عہدیداروں کو گالی دے کر کہتا تھا۔ اس کی کیا مجال کہ میری بات ٹالے، میرا کام نہ کرے۔ میں ابھی اس سے ملتاہوں اور پھر صاحب کے کمرے میں جا کر پاوں پڑ جا تا تھا ، سرجی میری "عزت" کا سوال ہے۔ بس جب کام ہوجا تا تو اکڑ کر کہتا۔ ارے سالا کیسے نہ کام کرتا ۔میرے آگے اسکی حیثیت ہی کیا ہے سو یہ خوشامد بڑے کام کا ہتھیار ہے۔ میں نے سرکاری دفتروں بہت سے نااہلوں کو اس ہتھیار سے بڑے بڑے...

مس کالو جی۔ ایک نئی سائنس

مس کالو جی۔ ایک نئی سائنس محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟   یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں   یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے      مس کال اور لوجی     یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے   سب سے پہلے کس نے مس کال ماری- اس کے بارے میں کوئی مصدقہ حوالہ   موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہی ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو ماری ہوگی۔   راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ   مس کا لیں مارتے مارتے اپنا بیلنس زیر و کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان   ہو کر کہتے ہیں   یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایما...

جمہوری حکومت کے پانچ سال پورے ہوگئے

جمہوری حکومت کے پانچ سال پورے ہوگئے بالاخر حکومت نے اپنے پانچ سال کی آئینی مدت پوری کرلی۔ کیسے کر لی۔ اور اس آئینی مدت میں عوام کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ ایک الگ قصہ ہے تاہم حکومت اور اپوزیش دونوں خوش ہیں۔ اور بہت باچھین کھلا کھلا کر اس بات کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بیان کر رہے ہیں گویا انہوں نے یہ کارنامہ سرانجام دے کر قوم پر احسان عظیم کیا ہے۔ اور قوم کو شکر گذار ہونا چاہیے کہ ہم اب ایک مکمل جمہوری ملک ہیں۔ سبحان اللہ ۔ کیا واقعی ۔ قوم کو خوش ہونا چاہیے۔ آئیے ذرا اس سوال کا جائزہ ایک عام آدمی کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ کیا عام آدمی کا معیار زندگی اس جمہوری حکومت کے سنہری پانچ سالہ دور میں بلند ہوا کیا عام آدمی کو امن ، سکون اور اطمینان نصیب ہوا کیا عام آدمی کو روزگار کے باعزت مواقع ملے۔ کیا ضروریات زندگی تک رسائی آسان ہوئی۔ کیا عام آدمی زندہ رہنے کے بنیادی  ضروریات جیسے پانی، بجلی ، گیس، ذرائع آمدورفت اور اس جیسی دیگر سہولیا ت کی آسان اور سستی فراہمی ممکن ہوئی کیا عام آدمی کو رہنے کے لئے چھت ، پہننے کے لئے کپڑے اور کھانے کے لئے خوراک حاصل کرنا کیا اس جمہوری حکومت نے ...

نسبت کی بات ہے

 نسبت کی بات ہے ایک بچے نے دیکھا کہ ایک بزرگ گلیوں میں بکھرے ہوئے کچھ کاغذ اکٹھے کر رہا ہے اور انہیں جھاڑ پونچھ کر تہ کرتاہے اور اپنے پا س موجود ایک لفافے میں ڈالتا جا تا ہے۔ وہ شکل سے کافی معزز نظر آرہا تھا اور کپڑے بھی بہت صاف ستھر ے پہنے ہوئے تھا۔ بچے کو تجسس ہوا کہ یہ کیا کر رہا ہے۔ وہ بزرگ کے پاس گیا اور پوچھا "با با جی آپ یہ کیا کر رہے ہیں" بزرگ نے بچے کو دیکھا اور بہت دردنا ک لہجے میں بولا "بیٹے۔ میں اپنے پیارے وطن کے جھنڈے اٹھا رہا ہوں۔ جو لوگوں نے بھینک دیے ہیں" بچے نے دیکھا اسکے ہا تھ میں کاغذ کی جھنڈیاں تھیں جو لوگ 14 اگست کو گھروں پر لگاتے ہیں۔ اور بارش یا ہوا سے وہ گلیوں میں بکھر جا تی ہیں۔ بچے نے کہا " بابا جی 14 اگست تو گذر گیا ۔اب آپ ان جھنڈیوں کا جو پھٹ چکی ہیں۔ کیا کریں گے۔" باباجی کے منہ سے ایک سرد آہ نکلی "بیٹے میں انہیں کسی محفوظ جگہ پر رکھوں گا ۔ تا کہ ان کی بے ادبی نہ ہو" "بے ادبی" بچے نے حیرت سے کہا " مگر یہ تو کاغذ کے ٹکڑے ہیں" " جی ہا ں بیٹے۔ یہ کاغذ کے ٹکڑے ہیں ۔" بزرگ نے کہا" مگر ان...

دنیا کی سب سے خوبصورت عورت

دنیا کی سب سے خوبصورت عورت جی ہاں دنیا کی سب سے خوبصورت عورت کون ہو سکتی ہے؟ مجھے نہیں پتہ آ پ کیا جواب دیں گے۔ میرے نزدیک دینا کی سب سے خوبصورت عورت " میری ماں " ہے۔ میری ماں میرا سب کچھ میری دنیا میری جنت میرے ذہن میں محفوظ اپنی ماں کا سب سے پہلا عکس جو ابھر تا ہے وہ ایک شفیق، مہربان ، اور خوبصورت چہرے کا ہے جو میری آنکھو ں کو ٹھنڈ ک بخشتا ہے۔ جو میری روح تک کو سرشار کر دیتا ہے۔ میری یاداشت میں مجفوظ ایک منظر صبح دم آنکھ کھلنے اور " گھوں گھوں" کی ایک مسحورکن آواز کا ہے یہ آواز پتھر کی بنی چکی سے نکلتی تھی۔ اور صبح دم میرے بچپن میں مجھے بیدار کر تی تھی میں جب سردیوں کی صبح کو اپنا سر رضاتی سے با ہر نکالتا تو مجھے سامنے اپنی ماں چکی کو گھماتے نظر آتی ۔ میں پتہ نہیں کتنی دیر تک اپنی ماں کو دیکھتا رہتا اور چکی کی " گھوں گھوں" کو سنتے سنتے پتہ نہیں کب میری آنکھ دوبارہ لگ جا تی۔ اس دور میں ہمارے گھر میں گھر کی گندم کے روزانہ تازہ پسے ہوئے آٹے سےاور اپنے ماں کے مہربان ہاتھوں سے پکے ہوئےپراٹھے ملتے ۔ ان پراٹھوں جیسی لذت بھر زند گی بھر کسی پراٹھے میں نہ ملی۔ ...

گندے کپڑے

گندے کپڑے ایک نئے شادی شدہ میاں بیوی کرایہ دار کی حیثیت سے ایک نئے محلے میں آئے۔   صبح جب خاتون خانہ اٹھی تو اسکی نظر سامنے والے بلا ک کی طر ف گئی۔ اس نے دیکھا کہ سامنے والوں نے گندے کپٹرے دھوکر ٹیرس میں لٹکا ئے ہوئے تھے ۔ لیکن کیڑے میلے میلے نطر آرہے تھے۔ خاتون نے اپنے شوہر سے کہا " لگتا ہے سامنے والی خا تون کو کیڑے اچھی طرح دھونے نہیں آتے ۔ یا پھر وہ جو ڈٹرجنٹ استعما ل کررہی ہے وہ غیرمعیا ری ہے۔ " خاوند بو لا " ممکن ہے " دوسرے دن پھر خاتون کو سامنے ٹیرس میں کپڑے لٹکے نظر آئے تو اس نے پھر وہی تبصرہ کیا کہ یا تو خاتون کو کیڑے دھونے نہیں آتے یا پھر ڈٹرجنٹ صحیح نہیں۔ خاوند خاموش رہا۔ تیسرے دن اسکے خاوند کو دفتر سے چٹھی تھی ۔ وہ لوگ لیٹ اٹھے ۔ خا تون جب جا گی تو اسکی نظر سا منے کی طر ف گئی ۔ لیکن وہ یہ دیکھ کر اچھل پڑی کہ آج سامنے ٹیرس میں لٹکے ہوئے کپڑے بہت صاف ستھرے نظر آرہے تھے۔ بلکہ ان کے رنگ بھی بہت نما یا ں تھے۔ خاتون نے بہت جوشیلے انداز میں اپنے شوہر کو مخاطب کیا " لگتا ہے سامنے والی عورت کو کپڑے دھونے کا ڈھنگ آگیا ہے یا اس نے معیاری ڈٹر جنٹ...

ممکن تو سب کچھ ہے

ممکن تو سب کچھ ہے کون سا فرد ایسا ہے دنیا میں جس نے اچھے دن تو دیکھے ہوں لیکن برے دن کبھی نہ دیکھے ہوں جسے آسانیاں تو حاصل ہوئی ہوں لیکن مشکلات سے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو ہمیشہ رات کے بعد دن کی روشنی ضرور آتی ہے۔ ہمیشہ دکھ کے سوگوار لمحات کے بعد سکھ کے خوشگوار دن ضرور آتے ہیں خوشیاں ہمیشہ نہیں رہیتیں غم ان کے پیچھے ہی ہوتے ہیں لیکن مشکلات سے گھبرانا زیب نہیں دیتا مشکلات کا سامنا کرنے سے ہی آسانیاں مل سکتی ہیں قدرت نے دکھ کا پردہ لگا کر سکھ کو چھپا یا ہوتا ہے ضرورت ہے تو صرف راستہ تلاش کرنے کی ۔ مشکل حالات میں بہتر طریقہ کار اور بہتر رویہ اپنانے کی ٹھہریے ایک مثال سے بات زیادہ بہتر سمجھ آجائے گی اتوار کا دن تھا۔ خاتون خانہ اپنے ضروری کام نبٹا کر ایک میگزین پڑھ رہی تھیں۔ لیکن ان کی بچی انہیں پڑھنے ہی دے رہی تھی۔ کبھی ان کے ایک طرف تو کبھی دوسری طرف۔ کبھی انکی گود میں تو کبھی انہیں کسی چیز کی طرف متوجہ کرنے لگتی۔ خاتون جھنجھلا ئی ہوئی لگ رہی تھی۔ میگزین میں کہانی بہت دلچسپ موڑ پر تھی لیکن وہ پڑھ نہ پارہی تھیں۔ بچی کو باربار روکنے، سمجھانے کے باوجود بچی شرارتوں پر آمادہ تھی۔ اچانک ایک خیال ...

انسانی مزاج کی تشکیل میں غذائی عادات کا حصہ

انسانی مزاج کی تشکیل میں غذائی عادات کا حصہ بابائے طب حکیم بقراط نے اپنے مریضوں کا حال بیان کرتے ہوئے لکھا لے کہ لوگوں نے بحالت تندرستی درندوں کی طرح کھا کر اپنے آپ کو بیمار کر ڈالا اور ہم نے ان کا علاج کیا تو انہیں چڑیوں کی غذا دی اور تندرست بنا دیا شیخ سعدی اگرچہ طببیت نہ تھے مگر بات نہائت معقول فرماگئے خوردن برائے زیستن است نہ کہ زیستن برائے خوردن یعنی کھانا زندہ رہنے کے کھاؤ نہ کہ کھانے کے لئے زندہ رہو حکیم ابو بکر محمد بن زکریارازی نے یہ سمجھتے ہوئے کہ عامتہ الناس اپنی غلط غذائی عادات سے بیمار ہوتے ہیں ۔ فرمایا اگرطبیب دواؤں سے کام لینے کے بجائے محض اغذیہ کے ذریعے سے علاج کی توفیق پاجائے تو نہائت اعلی درجے کا طبیب اور سعید ہے۔ حکیم ثابت بن قرت کا قول ہے۔ جسم کا آرام کم کھانے پر، نفس کی راحت کم گناہ پر، قلب کی آسائش کم فکر کرنے پر اور زبان کی راحت تھوڑی باتیں کرنے پر منحصر ہے۔ صوفیائے کرام کا مسلک ہے۔ قلت طعام، قلت منام اور قلت کلام ایک سرسری سا مطالعہ بھی یہ حقیقت واضح کر دیتا ہے کہ اسلام میں پاک صاف ، حلال و مطہر اور پاکیزہ غذا کی بہت اہمیت ہے۔ غذائیں انس...

سب جھوٹے خواب دکھاتے ہیں

سب جھوٹے خواب دکھاتے ہیں انسان ازل سے بہتری کی تلاش میں ہے خوب سے خوب تر کی چاہ میں رہتا ہے۔   اس خوب سے خوب تر کی تلاش میں انسان جہاں ترقی کی منازل طے کرتا رہا وہیں ہوس کی بیماری بھی اسے لاحق ہوئی۔ ہوس نے انسانوں کو انسانوں کا دشمن بنا یا۔ ہوس نے منافقت، جھوٹ، بے وفائی سکھائی ایک انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت کی بنیاد معاشی و معاشرتی حیثیت پر رکھی اور پھر ہر اس فعل کو جائز قرار دے ڈالا جس سے ا س کی معاشی و معاشرتی حیثیت کو تقویت پہچتی ہو لالچ نے جب دلوں میں گھر کیا تو محبت، خلوص وفا رخصت ہوئی ۔ انسان انسان کا دشمن بنا۔ آج کا انسان اور آج سے ہزاروں سال پہلے کا انسان ایک جیسا ہی ہے۔ کچھ فرق نہیں۔ نام ، مقام، اور ظاہری اطوار بدل گئے ہیں لیکن لالچ نے جو اصول اس وقت وضع کیے تھے وہی آج تک چل رہے ہیں۔ وہی خواب جو آج سے لاکھوں سال پہلے کے انسان نے دیکھے ہوں گے وہی آج کے انسان کے ہیں کیا ہمیں صرف سر چھپانے کو ٹھکانہ، تن پر پہننے کو کپڑا اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کو خوراک ہی چاہیےنا۔ لیکن ہم جب تک بھوکے رہتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ہمیں کچھ اور نہیں ص...