کاش شعور کی یہ حدیں کسی ایسے 'وفور' میں ڈھل جائیں جہاں بصارت کا بوجھ آنکھوں کے نور سے آزاد ہو جائے، اور میں لفظوں کے ظاہری پیکر سے نکل کر ان معانی تک جا سکوں جو صرف 'بین السطور' کی خاموشی میں سانس لیتے ہیں۔ یہ جو خود سے دوری کا راستہ ہے، دراصل یہی اپنی اصل تک پہنچنے کی واحد پگڈنڈی ہے، جس پر چلتے ہوئے انسان اپنی ہستی کے 'تحت الشعور' میں اترتا ہے اور یادوں کی اس بیکراں کھائی سے ہمکنار ہوتا ہے جہاں وقت کا کوئی پیمانہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جب عشق اپنی سچائی کی انتہا کو چھوتا ہے، تو وہ کسی 'قصور' کی گلیوں کا اسیر نہیں رہتا، بلکہ وہ تو انا کے سارے بت توڑ کر خاکساری کی اس معراج پر لے جاتا ہے جہاں غرور کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اے میری مجبوریوں کے سوداگر! اپنی انا کا یہ بوجھ اٹھا لے اور مجھے میری اس سادہ سی بے بسی کے حوالے کر دے، جو اجل کی تلخی میں بھی زندگی کے سرور کو کشید کرنے کا ہنر جانتی ہے۔ میں ایک بار خود کو ہوش کی بے غبار آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں، اس سے پہلے کہ جنون کا کوئی 'فتور' مجھے اس آسمان کی طرف اڑا لے جائے جس کی وسعتوں کا ابھی کوئی نام ...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی