Skip to main content

Posts

Showing posts from April, 2026

مٹی سے ماورا مسافت

کاش شعور کی یہ حدیں کسی ایسے 'وفور' میں ڈھل جائیں جہاں بصارت کا بوجھ آنکھوں کے نور سے آزاد ہو جائے، اور میں لفظوں کے ظاہری پیکر سے نکل کر ان معانی تک جا سکوں جو صرف 'بین السطور' کی خاموشی میں سانس لیتے ہیں۔ یہ جو خود سے دوری کا راستہ ہے، دراصل یہی اپنی اصل تک پہنچنے کی واحد پگڈنڈی ہے، جس پر چلتے ہوئے انسان اپنی ہستی کے 'تحت الشعور' میں اترتا ہے اور یادوں کی اس بیکراں کھائی سے ہمکنار ہوتا ہے جہاں وقت کا کوئی پیمانہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جب عشق اپنی سچائی کی انتہا کو چھوتا ہے، تو وہ کسی 'قصور' کی گلیوں کا اسیر نہیں رہتا، بلکہ وہ تو انا کے سارے بت توڑ کر خاکساری کی اس معراج پر لے جاتا ہے جہاں غرور کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اے میری مجبوریوں کے سوداگر! اپنی انا کا یہ بوجھ اٹھا لے اور مجھے میری اس سادہ سی بے بسی کے حوالے کر دے، جو اجل کی تلخی میں بھی زندگی کے سرور کو کشید کرنے کا ہنر جانتی ہے۔ میں ایک بار خود کو ہوش کی بے غبار آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں، اس سے پہلے کہ جنون کا کوئی 'فتور' مجھے اس آسمان کی طرف اڑا لے جائے جس کی وسعتوں کا ابھی کوئی نام ...

اُمید کی اوٹ میں ٹھہرا ہوا مَان

روٹھنا دراصل ایک خاموش اعترافِ محبت ہے، ایک ایسا نازک موڑ جہاں انسان اپنی خودداری کو کسی دوسرے کی توجہ کے صدقے کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ یہ احتجاج نہیں، بلکہ ایک معصوم سی پکار ہے جو لفظوں کا سہارا نہیں لیتی۔ روٹھنے والا اس مسافر کی مانند ہے جو گھنی چھاؤں میں صرف اس لیے تھم گیا ہو کہ کوئی پیچھے سے آئے گا، ہاتھ تھامے گا اور مسافتوں کی ساری تھکن ایک لمس سے مٹا دے گا۔ اس کیفیت کے پیچھے چھپی منائے جانے کی امید ہی وہ ڈوری ہے جو تعلق کو ٹوٹنے سے بچائے رکھتی ہے۔ وہ جو خاموش ہو کر بیٹھ گیا، وہ دراصل اپنی ہستی کو آپ کے حوالے کر چکا۔ اس کی ناراضی ایک کچی دیوار کی طرح ہوتی ہے، جس کے پیچھے وہ چھپ کر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا اب بھی اس کی تلاش میں کوئی درِ دل پر دستک دیتا ہے؟ یہ لمحہ انا کا نہیں بلکہ ایثار کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ روٹھنے والا اپنی انا کی قربانی دے کر ہی تو اس اُمید کی اوٹ میں بیٹھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی روٹھ رہا ہے، اس کا مان سلامت ہے۔ المیہ تب نہیں ہوتا جب گفتگو بند ہو جائے، بلکہ تب ہوتا ہے جب روٹھنے والا منائے جانے کی اُمید ترک کر دے۔ جس دن خاموشی میں اُمید کا یہ دیا...