Skip to main content

میسوفونیا

 ناولوں اور کہانیوں میں تو اکثر "خاموشی کی آواز" کا ذکر ملتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی کے لیے یہی خاموشی ایک بھیانک خواب بن سکتی ہے؟ تصور کیجیے، آپ ایک پرسکون کمرے میں بیٹھے ہیں اور اچانک کسی کے چپس کھانے کی آواز، قلم کی ٹک ٹک، یا محض سانس لینے کی آواز آپ کے اندر غصے کا ایک ایسا طوفان برپا کر دے کہ آپ کا جی چاہے وہاں سے بھاگ جائیں یا چیخنے لگیں۔



اگر ایسا ہے، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آپ "میسوفونیا" (Misophonia) کا شکار ہیں—ایک ایسی پراسرار طبی حالت جسے 2026 کی جدید تحقیق نے محض ایک "عادت" کے بجائے ایک پیچیدہ اعصابی خلل قرار دے دیا ہے۔

میسوفونیا: جب کانوں کا رابطہ جذبات سے بگڑ جائے

اردو میں ہم اسے "نفرتِ صوت" یا آواز سے بیزاری کہہ سکتے ہیں۔ لیکن یہ عام سی بیزاری نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں مخصوص "نرم" آوازیں (Soft Sounds) انسانی دماغ میں "بچو یا لڑو" (Fight or Flight) والے ہارمونز کو بیدار کر دیتی ہیں۔

دماغ کے اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے؟

2026 کی تازہ ترین نیورو سائنس ریسرچ کے مطابق، میسوفونیا کے شکار افراد کے دماغ میں 'اینٹیریئر انسولر کورٹیکس' (AIC) ضرورت سے زیادہ متحرک ہوتا ہے۔ یہ دماغ کا وہ حصہ ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ہمیں کس چیز پر توجہ دینی ہے اور کسے نظر انداز کرنا ہے۔

عام انسان کا دماغ کسی کے چبانے کی آواز کو "بیک گراؤنڈ نوائز" سمجھ کر رد کر دیتا ہے، لیکن میسوفونیا کے مریض کا دماغ اسے ایک بڑے خطرے (جیسے شیر کی دھاڑ) کے طور پر رجسٹر کرتا ہے۔ نتیجہ؟ شدید غصہ، پسینہ آنا، اور دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا۔

وہ آوازیں جو 'بارود' کا کام کرتی ہیں

میسوفونیا کے محرکات (Triggers) ہر شخص کے لیے مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم کچھ آوازیں سب میں مشترک ہیں:

·         کھانے پینے کی آوازیں: سوپ پینے کی آواز، سیب کاٹنے کی کڑک، یا چیونگم چبانا۔

·         سانس کی تال: کسی کا ناک سے زور زور سے سانس لینا یا خراٹے لینا (جو اکثر اپنوں کے درمیان تلخی کا باعث بنتا ہے)۔

·         دہرائی جانے والی آوازیں: کی بورڈ پر ٹائپنگ، گھڑی کی ٹک ٹک، یا جوتوں کی چاپ۔

2026 کے جدید علاج: امید کی نئی کرن

ماضی میں اسے وہم سمجھا جاتا تھا، لیکن آج اس کا علاج سائنسی بنیادوں پر ممکن ہے:

1. ساؤنڈ ری ٹریننگ تھراپی (SRT)

اس میں مریض کو مخصوص "وائٹ نوائز" (جیسے بارش یا لہروں کی آواز) سنائی جاتی ہے تاکہ اس کا دماغ ٹرگر آوازوں کے بجائے سکون بخش آوازوں پر توجہ مرکوز کرنا سیکھ لے۔

2. اسمارٹ ہیئرنگ گیجٹس

2026 میں ایسے AI ایئربڈز متعارف ہو چکے ہیں جو صرف "ناپسندیدہ آوازوں" کو فلٹر کر دیتے ہیں جبکہ گفتگو کو واضح رکھتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی میسوفونیا کے مریضوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔

3. علمی سلوکی علاج (CBT)

یہ تھراپی مریض کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ آواز کو ایک "حملے" کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک "بے ضرر شور" کے طور پر کیسے قبول کرے۔

معاشرتی رویے اور ہماری ذمہ داری

اکثر لوگ میسوفونیا کے شکار افراد کو "بدتمیز" یا "زیادہ حساس" سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں، یہ ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اگر آپ کا کوئی دوست یا گھر والا کھانے کی میز پر آپ کی آواز سے پریشان ہو رہا ہے، تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی حالت کو سمجھیں۔

صحت کے بلاگ کے لیے کلیدی نکات:

·         علامات: آواز سنتے ہی بے چینی، شدید غصہ، یا جگہ چھوڑنے کی خواہش۔

·         تحقیق: یہ کان کی نہیں، بلکہ دماغی وائرنگ کی بیماری ہے۔

·         حل: شور کم کرنے والے ہیڈ فونز، یوگا، اور ماہرِ نفسیات سے مشورہ۔

میسوفونیا زندگی کو محدود کر سکتا ہے، لیکن آگاہی اور جدید علاج کے ذریعے اسے شکست دی جا سکتی ہے۔ اگر آپ بھی کسی مخصوص آواز سے "خوفناک غصہ" محسوس کرتے ہیں، تو یاد رکھیے کہ یہ آپ کی شخصیت کا نقص نہیں بلکہ آپ کے دماغ کا ایک منفرد ردِعمل ہے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...