Skip to main content

شادی ۔ ایک مذہبی فریضہ یا نمائش

شادی ۔ ایک مذہبی فریضہ یا نمائش
تحریر : محمد نور آسی

شادی ۔۔۔۔ شادی ۔۔۔۔
خانہ آبادی۔۔۔
ہر مذ ہب میں شادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے - اسلام میں شادی حکم خداوندی کے ساتھ ساتھ سنت رسول بھی ہے۔
اسلام شادی کو معاشرے کی بنیا د کا پہلا پتھر قرار دیتا ہے ۔ اور قران میں بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ شادی، میاں بیوی کے تعلقات، اور طلاق جیسے معاملات کو بیان کیا گیا ہے۔
شادی جہان ایک مذہبی فریضہ ہے وہیں ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔
ایک مر د یا ایک عورت شا دی کے معاشرے میں عملی کردار ادا کرنے کی ابتدا کرتے ہیں۔
چنانچہ ضروری ہے کہ شادی سے پہلے ہی ہر دو افراد کو ان تمام ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کیا جائے جو ایک معاشرے کا فعال رکن بننے کی حیثیت سے ان پر نا فذ ہوتی ہیں۔
ہمارے ماحول میں شادی اب ایک مذہبی فریضے سے زیا دہ ایک نمائشی پروگرام اور ایک نام نہادثقافتی شو بن کر رہ گئی ہے - اسکے پیچھے ایک مکمل تاریخ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برصغیر پاک وہند کا علاقہ اسلام کی روشنی آنے سے پہلے بہت سارے من گھڑت مذاہب کی آماجگا ہ
رہاہے ۔ جن میں سر فہرست ہندو مت ہے۔ ہندو مت بنیادی طور کچھ رسومات اور کچھ توہمات کا ملغوبہ ہے- شادی کے حوالے سے جہیز کا معاملہ سر فہرست ہے۔ ہندووں میں وراثت کے جو قوانین ہیں- ان میں خواتین کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ تاہم اس خامی کو جہیز کی روائت سے درست کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔ چنانچہ ہندو معاشرے میں ایک لڑکی کے والدیں اسے وراثت میں حصے کے بجائے جہیز کی شکل میں متبادل دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اسی طرح لڑکی کے قریبی عزیز اقارب کو ایک نام نہاد رسم کے تحت لڑکی کو جہیز کیلئے حصہ ڈالنے کا پابند بنا یا گیا ہے۔ جسے مختلف علاقوں مختلف نام دیے گئے ہیں ۔ مثلا ننھال کا دین، دوھیال کا دین وغیرہ۔
شادی پر فضول اور بے معنی رسموں کے ذریعے اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے کی لت بھی اسی ہیندوانہ معاشرے کی روائت ہے۔
چونکہ برصغیر میں لڑکی لڑکے کے آزادانہ ملاپ کو صدیوں پہلے سے قابل مذمت سمجھا جا تا تھا لہذا شادی کو لڑکی لڑکے آزادانہ اختلاط کا ذریعہ بھی بنایا گیا۔ اور شادی میں کچھ ایسی رسموں کا اضافہ کیا گیا جس میں ہردو جنس براہ راست شریک ہو سکے۔ اس میں میں مختلف علاقوں میں مختلف انداز اور مختلف ناموں کے ساتھ رسوم ملتی ہیں لیکن مقصد سب کا ایک ہی ہے۔
شادی پر ڈھول اور ناچ گانا بھی اہم رسم شمار کی جا تی ہے-اس میں پیسے کے ضیاع کو قابل فخر رسم سمجھا جاتا۔ ڈھول باجے بجانے والوں اور ناچ گانا کرنے والوں پر پیسے لٹانا اسی جاہلانہ معاشرےکی نفسیاتی احساس کمتری کا مظہر ہے۔
جہیز بنانا تو پھر بھی سمجھ میں آتا ہے۔ مگر خصوصی طور ایک دن مخصوص کرکے جہیز کی نمائش کرنا بھی صدیوں پرانی رسم ہے ۔ یہ رسم جہاں نام نہاد احساس تفاخر بلکہ تکبر کی نمائندہ ہے وہیں غریب افراد کی دل شکنی کا با عث بھی ہے۔
اسی طرح جہیز مانگ کر لینا، اپنی مطالباتی فہرست دلہن کے والدین کر پیش کرنا اور انکی مالی حیثیت سے بڑھ کر جہیز مانگنا انسانیت کی توہین ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اسے معمولی بات سمجھا جا تا ہے۔یہ روائت بھی تاریخ نے دی ہے۔
اپنی حیثیت سے بڑھ کر بارات بنا کر دلہن کے گھر جانا، ویلیں دینا، اور راستوں میں ناچ گانا، ہلڑبازی کرنا کسی مہذب معاشرے میں رائج نہیں ۔ مگر ہمارے ہاں اسے شادی کا جزو لاینفک گردانا جاتا ہے۔
ولیمہ بھی ایک نمائشی رسم بنا دیا گیا ہے۔ یہاں بھی زیادہ سے زیادہ افراد کو مدعو کرنا، ہوٹلوں میں کھانے کا انتظام کرنا، کھانے کے دوران بے جا بے صبری ، ہلڑبازی، اور کھانے کا ضیا ع جیسی چیزیں ولیمہ کی تقریب کی اسلامی روح سے قطعا مماثلت نہیں رکھتیں۔
بات شادی تک محدود نہیں۔ شادی کے بعد بھی فضول رسومات کی ایک لمی فہرست ہے۔ جو خصوصی طور پر لڑکی کے والدین کو معا شی لحاظ مزید کمزور کرتی ہے۔
دیکھا جائے تو موجودہ رسم و رواج کے سا تھ شادی لڑکی کے والدین کیلئے انکے معاشی قتل کے مترادف ہے۔
مجھے سمجھائیے ہماری شادیوں میں سوائے نکاح کے کونسی چیز اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے؟






















Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر