Skip to main content

تکیہ کلام

تکیہ کلام
از محمد نو آسی
یہ تکیہ کلام بھی کیا عجب چیز ہے۔ جس بندے سے چپک جائے پھر جان نہیں چھوڑتا۔ عمومی تکیہ کلام تو خیر پھربھی قابل برداشت ہوتے ہیں  جیسے " اور سنائیں" یا پھر " تو میں کہ رہا تھا"ٗ لیکن کچھ لوگوں کا تکیہ بہت الجھاؤ پیدا کرتا ہے۔
میرے ایک دوست ہیں جن کا تکیہ کلا م ہے " اچھا پھر کیا ہوا؟" ۔ اب آ پ کوئی بھی بات کریں اور وہ مکمل بھی ہوجائے تو موصوف ضرور بولیں گے اچھا پھر کیا ہوا۔ ایک دفعہ ان سے بات ہورہی تھی کہ اپنے فلاں کلاس فیلو کا انتقال ہو گیا ۔
حسب عادت بولے" پھر کیا ہوا"
 بھئی مرحوم کا جنازہ  ہوا اور میں جنازے میں شریک ہوا ۔
بولے اچھا پھر کیا ہوا؟
"بس جنازے کے بعد میت کو قبرستان لے گئے اور دفنایا"
اچھا پھر کیا ہوا
میں بھنا کر رہ گیا۔
اب میں انہیں قبر کا احوال تو بتانے سے رہا۔
ایک اور مہربان ہیں۔ جن کا تکیہ کلام ہے " بس مت پوچھو"
جب  بھی ملتے ہیں بدحواسی چہرے پر ایسے جلوہ فرما ہوتی ہے۔  جیسے خواتین کے چہرے پہ میک اپ
حال پوچھو تو وہی جواب
بس مت پوچھو ۔
کئی دفعہ جھنجھلا کر اگر کہ کہ اچھا نہیں پوچھتے تو
بنا پوچھے وہ رام لیلا چھیڑتے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔
بیگم کی پنڈلی میں ہونے والی خارش سے لے کر دودھ پیتے منے کے منہ کے چھالوں تک ساری تفصیل بتاکر ہی دم لیں گے۔ اور آخر میں یہ ضرور فرمائیں گے
بس مت پوچھو
ایک اور مہربان کا تکیہ کلا م کو بندے کو زچ کرکے رکھ دیتا ہے
جی ہاں ان کا تکیہ کلام ہے " معاملہ اس سے بھی خراب ہوسکتا تھا"
اب آپ ان سے دنیا جہاں کے کسی موضوع پر بات کرلیں۔ان کے مرغے کی ایک ٹانگ ہوگی۔
کسی دوست نے بتایا کہ بیٹے کو بخار ہوگیا ہے۔ کسی دوائی سے اتر نہیں رہا
تو بولے ۔ شکرکرو۔ معاملہ اس سے بھی خراب ہوسکتاتھا۔
دوست چڑ کر بولا
کیاخراب ہوسکتاتھا۔
بھئی دیکھو نا۔ بخار کا کیا ہے اتر ہی جائے گا لیکن خدانخواستہ بچے کو ہیپاٹائٹس بھی تو ہوسکتا تھا
اب وہ مارنے کو ہی دوڑے۔
ایک دوست کے بیٹے کا موٹر سے ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ۔
وہاں گئے تو حسب عادت بول دیا
کوئی بات نہیں۔ معاملہ اس بھی خراب ہوسکتا تھا۔
وہ دوست تو خیر چپ رہے لیکن ان کی بیوی چٹخ کر بولی
میرے بیٹے کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور آپ بول رہے ہیں کہ معاملہ اس سے بھی خراب ہوسکتا تھا۔
گڑبڑا کر بولے
جی جی۔ میرا مطلب تھا کہ دونوں ٹانگیں بھی تو ٹوٹ سکتی تھیں نا۔
پھر اس کے بعد حالات کیا بتائیں۔ ہم اس کی جگہ بھابی سے معافیاں مانگتے رہے۔
اور پینے کو پانی بھی نہ ملا
موصوف کئی مرتبہ مار کھا چکے ہیں لیکن مجال ہے جو اپنے تکیہ کلام سے پیچھے ہٹے ہوں
ہم نے کئی بار سوچا کہ کوئی ایسی صورت حال ہو کہ یہ صاحب اپنا فقرہ نہ بول پائیں ۔ لیکن انوکھی سے انوکھی صورت حال میں یہ موصوف اپنا راستہ نکال ہی لیتے ہیں۔
لیکن آخرِکا ایک دن ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا کہ ہم دوستو﷽ں کا خیال ہوا کہ اس واقعے پر وہ اپنا تکیہ بھول جائیںگے ۔
واقعہ کچھ یوں تھا کہ ہمارے محلے میں ایک صاحب عزیزالدین نامی رہتے تھے۔ جنہوں نے پچھلی عمر میں ایک نوجوان دوشیزہ سے شادی کی تھی۔ طبیعت کے انتہائی تیز اور شکی مزاج تھے۔ بازار میں پان کی دوکان تھی۔ دن میں دو سے تین بار گھر کا چکر لگاتے تھے۔ ان کی بیگم کافی کھلی ڈلی طبیعت کی تھیں۔ اورمحلے کے کئی افراد موقع پاکر ان کے گھرآیا جایا کرتے تھے۔
ایک دن پہلے وہ اپنے معمول سے ہٹ کر گھر آئے تو کسی اجنبی کو اپنے بیوی کے پاس بیٹھے دیکھ کر شدید غصے میں آگئے اور گھرمیں پڑے پسٹل سے دونوں کو بھون ڈالا۔ بعد میں خود بھی خودکشی کرلی۔
واقعہ اتنا اندوہناک تھا کہ اس پر سوائے افسوس کے اور کہا جا سکتا تھا۔ چنانچہ ہم نے یہ بات جب اپنے اسی دوست کو بتائی تو
یاحیرت۔۔۔ ٹھک سے بولے
اوہ۔۔ معاملہ اس بھی خراب ہوسکتا تھا۔
ہم ہکے بکے رہ گئے۔
کیسے؟؟؟؟
ان کا پورا گھر اجڑ گیا ۔ اب معاملہ اس سے زیادہ کیا خراب ہوسکتا تھا؟؟؟
بہت پرسکون ہو کر بولے
اچھا یہ بتاو۔ یہ واقعہ کب پیش آیا۔
ہم نے کہا کہ کل
بولے
اگر عزیزالدین پرسوں اسی ٹائم پر گھر آجاتے تو یہ خاکسار زندہ آپ کے سامنے کھڑا نہ ہوتا۔
اب بتاؤ معاملہ اس سے زیادہ خراب ہو سکتا تھا کہ نہیں
ہم تو گنگ ہو کر رہ گئے۔



Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...