Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2025

2025 کی آخری دعا

    2025 کی آخری دعا یہ دعا ہاتھ اٹھا کر نہیں کی جا رہی۔۔۔ یہ تو وقت کے ماتھے پر رکھے ہوئے سوال کی طرح ہے۔ اس سال نے ہمیں کامیابیوں کی فہرست نہیں دی، اس نے ہمیں آئینہ دیا۔۔ کچھ دھندلا، کچھ ٹوٹا ہوا، مگر سچ بولتا ہوا۔ یہ دعا آسمان کی طرف نہیں دل کی طرف جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے--- وہیں جہاں 2025 کے قدموں کے نشان ابھی خشک نہیں ہوئے۔ یہ دعا نہیں شکر گذاری ہے کہ ہم نے ہر اندھیرے کو دشمن نہیں سمجھا، کچھ سایوں میں ٹھہرنا سیکھا۔ کہ ہم نے امید کو بڑے خوابوں کے بوجھ سے آزاد کر کے چھوٹی ضدوں میں بانٹ دیا۔۔۔ تھک کر بھی چلتے رہنا، اور خاموشی میں خود کو پہچاننا۔ دعا ہے کہ آنے والا سال ہمیں زیادہ روشن نہیں، زیادہ سچا بنا دے۔ کہ ہم روشنی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی آنکھوں کو دیکھنے کے قابل کر لیں۔ اس طرح کہ یقین دلیل نہ مانگے، بس جگہ مانگے۔۔۔ دل کے کسی کونے میں۔ سال ختم ہو رہا ہے، مگر دعا مکمل نہیں ہوئی۔ شاید دعا کا مکمل ہونا ضروری بھی نہیں۔ کچھ دعائیں انسان کو بدلنے کے لیے ہوتی ہیں، پوری ہونے کے لیے نہیں۔ اور 2025، ہمیں یہی سکھا کر رخصت ہو رہا ہے۔ ہم نے 2025 میں سیکھا کہ زخم صرف تکلیف د...

حرفِ اول کا بوجھ

  حرفِ اول کا بوجھ لکھنے سے پہلے ایک ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے جس کا کوئی واضح نام نہیں۔ یہ نہ محض خاموشی ہے، نہ مکمل اضطراب ۔۔۔۔ بلکہ دونوں کے درمیان پھیلا ہوا ایک بوجھل توقف۔ جیسے ذہن کسی غیر مرئی دہلیز پر کھڑا ہو اور اندر جانے یا پلٹ آنے، دونوں سے یکساں خائف ہو۔ اس لمحے احساسات صاف نہیں ہوتے، وہ مبہم، نیم روشن سایوں کی طرح موجود رہتے ہیں۔ کچھ یادیں دل کے کونے میں جمے بیٹھے رہتی ہیں، جنہیں چھیڑنے سے خوف آتا ہے کہ کہیں سب کچھ بکھر نہ جائے۔ کچھ خیالات اپنی بے ترتیبی میں ہی سچ لگتے ہیں، مگر لفظوں کی ترتیب مانگتے ہیں۔ اور یہی مطالبہ سب سے زیادہ کٹھن ہوتا ہے۔ لکھنے سے پہلے انسان خود سے غیر معمولی ایمانداری کا مطالبہ کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہوتا کہ کیا لکھنا ہے ۔۔۔۔ بلکہ یہ کہ کیا چھپانا ہے۔ کیونکہ ہر تحریر، شعوری یا لاشعوری طور پر، ایک انتخاب ہوتی ہے ۔کون سا سچ بولنا ہے، اور کون سا سچ خاموشی میں دفن رہنے دینا ہے۔ یہ کیفیت دراصل خود احتسابی کا لمحہ ہے، جہاں قلم اٹھانے سے پہلے دل لرزتا ہے۔ اس لرزش میں خوف بھی شامل ہے اور امید بھی ۔۔۔۔ کہ شاید لکھنے کے بعد ذہن کچھ ہلکا ہو جائے، یا شاید اور ...

کہانیوں میں چھپے کردار

  کہانیوں میں چھپے کردار کیا آپ نے کبھی اپنے آپ کو کسی اور کی کہانی میں ڈھونڈا ہے؟ شاید کسی ناول کے حاشیے میں، یا کسی اجنبی کی بات کے بیچ اچانک ٹھہر کر۔ یوں لگا ہو کہ یہ جملہ تو میں نے جیا ہے، یہ خاموشی تو میری اپنی تھی۔ لفظ کسی اور کے تھے، مگر درد، امید یا الجھن۔۔۔۔۔سب مانوس۔ کہانیاں شاید اسی لیے ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہیں کہ وہ ہمیں آئینہ بن کر نہیں، دریچہ بن کر دکھاتی ہیں۔ ہم اس میں جھانکتے ہیں اور باہر کسی اور کی زندگی نظر آتی ہے، مگر اندر کہیں اپنا عکس بھی سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔ ایک معمولی سا منظر۔۔۔۔۔خالی کمرہ، ادھورا خط، رکی ہوئی گھڑی۔۔۔۔اچانک ہمارے اندر کی کسی بند یاد کو کھول دیتا ہے۔ ایسے لمحوں میں ہم یہ نہیں پوچھتے کہ یہ کہانی کس کی ہے، بلکہ یہ سوال آہستہ سے ابھرتا ہے کہ کیا میری کہانی بھی کسی اور کے لیے ایسی ہی ہوگی؟ کیا کوئی اور بھی کہیں بیٹھا، انہی لفظوں میں خود کو تلاش کر رہا ہوگا؟ شاید ہم سب اپنی مکمل کہانی کبھی نہیں لکھ پاتے۔ ہم ایک دوسرے کے لفظوں میں اپنی کمی پوری کرتے رہتے ہیں۔ اور جب کسی اور کی کہانی میں خود کو پہچان لیتے ہیں، تو یہ احساس جنم لیتا ہے کہ تنہائی ا...

یادیں بھی بوسیدہ ہو جاتی ہیں

  یادیں بھی بوسیدہ ہو جاتی ہیں ہم یادوں کو اکثر محفوظ خانوں میں بند سمجھتے ہیں، جیسے وہ وقت کے شور سے بے نیاز ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یادیں بھی سانس لیتی ہیں، اور سانس لینے والی ہر شے پر عمر کا اثر پڑتا ہے۔ کچھ یادیں دھیرے دھیرے اپنے کنارے کھو دیتی ہیں؛ رنگ وہی رہتا ہے مگر معنی سرک جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ذہن کے کسی کونے میں رکھی ہوئی کوئی شے، جس پر روزمرہ کی گرد خاموشی سے بیٹھتی رہتی ہے۔ یا شاید یادیں بھی کپڑوں کی طرح ہیں—پہنی جائیں تو بدن کا حصہ لگتی ہیں، تہہ کرکے رکھ دی جائیں تو رفتہ رفتہ اپنی بُنت کھونے لگتی ہیں۔ کچھ یادیں دھوپ میں رکھی تصویروں کی طرح مدھم ہو جاتی ہیں، اور کچھ نمی میں پڑی کتابوں کی مانند بوسیدہ—صفحے سلامت رہتے ہیں مگر الفاظ اکھڑ جاتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یادوں کی شکست و ریخت میں ماضی سے زیادہ ہمارا حال شریک ہوتا ہے۔ آج کا دکھ، کل کی خوشی میں شامل ہو جاتا ہے؛ آج کی تھکن، ماضی کی چمک کو دھندلا دیتی ہے۔ ہم ایک ہی واقعے کو ہر موڑ پر نئے زاویے سے دیکھتے ہیں، اور ہر نظر کے ساتھ وہ واقعہ کچھ اور ہو جاتا ہے۔ ہم اپنی یادوں کو بچانے کی بہت کوشش کرتے ہیں۔ بار بار سنب...

ایک سوال جو کبھی پوچھا نہیں گیا

  ایک سوال جو کبھی پوچھا نہیں گیا میں نے خود سے بہت کچھ پوچھا ہے: موسم، حالات، لوگوں کے بدلتے رویّے، حتیٰ کہ تقدیر کی نیت تک۔ مگر ایک سوال تھا جو ہمیشہ گفتگو سے باہر رہا، جیسے کمرے میں رکھا وہ آئینہ جس پر کپڑا ڈال دیا جائے۔ وہ سوال یہ نہیں تھا کہ میں ناکام کیوں ہوا یا مجھے کیا ملا؟ ۔۔۔وہ سوال اس سے زیادہ خاموش اور زیادہ خطرناک تھا: کیا میں نے وہ زندگی جینے کی کوشش کی جس کا امکان میرے اندر رکھا گیا تھا؟ ہم عموماً سوال وہی پوچھتے ہیں جن کے جواب ہمارے پاس کسی نہ کسی شکل میں پہلے سے موجود ہوں۔ مگر یہ سوال ایسا تھا جو جواب مانگتا ہی نہیں، صرف سچائی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس سچائی کا جو کسی دن اچانک سامنے آ جائے تو سارا حساب بدل دے۔ میں نے محسوس کیا کہ میں نے اپنے اندر کی کئی آوازوں کو صرف اس لیے خاموش رکھا کہ وہ میرے بنائے ہوئے نقشے میں فٹ نہیں آتی تھیں۔ میں نے خود کو مصروف رکھا، معقول فیصلوں میں، مناسب راستوں میں، تاکہ یہ سوال بول نہ سکے۔ یہ سوال خطرناک اس لیے نہیں تھا کہ اس کا جواب مشکل تھا، بلکہ اس لیے کہ اس کا جواب سب کچھ بدل سکتا تھا۔ یہ مجھے بتا سکتا تھا کہ میں نے اپنی ذات کے ساتھ کتنی...

میں نے خود کو سمجھانا چھوڑ دیا

میں نے خود کو سمجھانا چھوڑ دیا میں نے خود کو سمجھانا اس دن چھوڑ دیا جب مجھے احساس ہوا کہ ہر دلیل مجھے کسی نتیجے تک نہیں، صرف ایک نئی وضاحت تک لے جاتی ہے۔ جیسے میں اپنے ہی اندر ایک مقدمہ لڑ رہا ہوں—گواہ بھی میں، وکیل بھی، اور منصف بھی۔ مگر فیصلہ کبھی صادر نہیں ہوتا۔ ہم سمجھانے کو سکون سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ اکثر بے چینی کو مہذب شکل دینے کا ہنر ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا، ہم خود کو اس لیے نہیں سمجھاتے کہ ہم حقیقت تک پہنچنا چاہتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم سوال سے بچنا چاہتے ہیں۔ سوال تکلیف دہ ہوتا ہے، اور جواب ہمیں وقتی پناہ دے دیتا ہے۔ ہر جواز ایک باریک چلمن کی طرح ہوتا ہے، جو نہ چھپاتا ہے نہ دکھاتا ہے ۔ اس طرح ہم خود کو قائل کرتے رہتے ہیں، اور دھیرے دھیرے اپنی ہی باتوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ سمجھانا دراصل ایک ترتیب ہے—خیالات کو قطار میں کھڑا کرنا، احساسات کو خانوں میں بانٹ دینا۔ مگر زندگی اکثر قطار میں نہیں چلتی۔ وہ بے ترتیب آتی ہے، سوال بن کر، کیفیت بن کر، اور کبھی ایک ایسی خاموشی کی صورت جو کسی نتیجے کا تقاضا نہیں کرتی۔ میں نے اسی خاموشی میں پہلی بار خود کو بغیر کسی لیبل کے دیکھا۔ ایک دن می...

انوکھی یتیمی

  انوکھی یتیمی کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو شور نہیں کرتے، بس اندر ہی اندر انسان کو کھا جاتے ہیں۔ یہ وہ دکھ ہیں جو آنکھوں سے کم اور سانسوں سے زیادہ بہتے ہیں۔ بڑھاپا بھی انہی دکھوں میں سے ایک آئینہ ہے، جس میں انسان اپنی ساری عمر دیکھتا ہے—وہ عمر جو دوسروں کے لیے وقف رہی، مگر آخر میں خود کے لیے خالی رہ گئی۔ زندگی کے ابتدائی برس سہاروں میں گزر جاتے ہیں، اور جوانی ذمہ داریوں میں۔ انسان اپنے آپ کو پیچھے رکھ کر اولاد کو آگے بڑھاتا ہے۔ خواب ان کے نام، دعائیں ان کے حصے، اور محنت ان کے مستقبل کے لیے۔ یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ سرمایہ ایک دن لوٹ آئے گا، کسی توجہ، کسی لمس، کسی حال پوچھنے کی صورت۔ مگر بعض اوقات وقت لوٹاتا کچھ نہیں، صرف خاموشی دے دیتا ہے۔ اصل تنہائی تب شروع ہوتی ہے جب آس پاس لوگ موجود ہوں مگر دل تک کوئی نہ پہنچے۔ جب عمر کے آخری موڑ پر انسان کو کسی بڑے سہارے کی نہیں، صرف ایک چھوٹی سی موجودگی کی ضرورت ہو—اور وہ بھی میسر نہ آئے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان خود کو دوبارہ بے سہارا محسوس کرتا ہے، جیسے زندگی نے اسے ایک بار پھر خالی ہاتھ چھوڑ دیا ہو۔ یہ دکھ کسی ایک شخص کا نہیں، یہ پورے معاشرے کی ش...

زندگی کوئی مکمل پروگرام نہیں

 زندگی کوئی مکمل پروگرام نہیں زندگی کو اگر ایک systemسمجھ لیا جائے تو احساسات اس کے وہ پس منظر میں چلنے والےprocess ہیں جو دکھائی نہیں دیتے مگر پورے وجود کو متحرک رکھتے ہیں۔ ہر انسان اپنے اندر ایک وسیع ہارڈ ڈرائیو سنبھالے ہوئے ہے، جہاں بچپن کی ہنسی، ادھورے خواب اور ٹوٹے ہوئے یقین خاموشی سے store ہوتے جاتے ہیں۔ کچھ یادیں ایسی ہیں جو بار باربغیر بٹن دبائےopen ہوتی ہیں اور کچھ فائلیں وقت نے دانستہhidden (خفیہ) رکھی ہوتی ہیں، شاید اس لیے کہ انہیں کھولنے کی سکت ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ دل جب کسی تجربے سے گزرتا ہے تو وہ محض ایک واقعہ نہیں رہتا، بلکہ پورے احساساتی ڈیٹاdata کو متاثر کرتا ہے۔ کبھی کوئی لفظ اندر اتر کر ایک خاموش وائرس کی طرح سوچ کے نظام میں سرایت کر جاتا ہے، اور انسان خود کو بدلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں کوئی بیرونی اینٹی وائرس کارگر نہیں ہوتا؛ شفا صرف شعور کی آہستہ آہستہ اپ ڈیٹ سے آتی ہے، جو وقت اور برداشت کے ساتھ ممکن ہوتی ہے۔ رشتے دراصل نازک نیٹ ورک ہیں۔ ذرا سی بے توجہی ہو تو رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے، اور باتیں ادھوری لوڈنگ میں اٹک جاتی ہیں۔؛ سگنل کمزور ہو تو غلط فہمیاں ...

پہاڑوں پر جمی برف کے دکھ

 پہاڑوں پر جمی برف کے دکھ پہاڑ کی خاموش چھاتی میں جمی برف محض پانی نہیں، ایک طویل صبر کی داستان ہوتی ہے۔ جب یہ پگھلتی ہے تو قطرہ قطرہ اپنے اندر چھپے دکھ کو آزاد کرتی ہے، اور یہی دکھ دریا بن کر بہنے لگتا ہے۔ دریا شور نہیں کرتا، احتجاج نہیں لکھتا، وہ بس چلتا رہتا ہے۔۔۔اپنے سینے میں زمانوں کی تھکن، صدیوں کی ان گنت بھولی ہوئی دعائیں اور بیتے وقت کی ٹوٹی ہوئی قسمیں سمیٹے ہوئے۔ اس کا ہر موڑ کسی سوال کی طرح ہوتا ہے، جس کا جواب کہیں اور رکھا گیا ہو۔ دریا آخرکار سمندر میں اتر جاتا ہے، مگر وہاں پہنچ کر بھی اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی۔ اتنی وسعت، اتنی گہرائی، پھر بھی ایک انجانی تشنگی۔ شاید کہ ایسی تشنگی جو پانی سے نہیں بجھتی،جیسے کچھ خلا جو مقدار سے نہیں، معنی سے بھرتے ہیں۔ انسان بھی تو اسی سمندر جیسا ہے؛ خواہشوں کی وسعت کے باوجود اندر کہیں ایک بنجر کنارہ رہ جاتا ہے، جہاں کوئی خیال اترنے سے پہلے ٹھٹھک جاتا ہے۔ ان دیکھے، ان چھوئے لفظ بھی اسی بہاؤ کا حصہ ہیں۔ وہ زبان پر نہیں آتے، مگر دل کی تہوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ یہ وہ لفظ ہیں جو لکھے نہیں جاتے، جئے جاتے ہیں۔ اگر ہم انہیں سننا سیکھ لیں تو شاید ب...

ابھی بے چہرگی مکمل نہیں

  ابھی بے چہرگی مکمل نہیں محمد نور آسی ٭٭٭٭٭ کتاب آج بھی موجود ہے مگر وہ اب کسی میز پر نہیں رکھی وہ اسکرین کے ایک کونے میں خاموش فائل کی طرح پڑی ہے جسے کھولنے سے پہلے ہم کئی آوازوں سے اجازت لیتے ہیں بارش برستی ہے تو شہر کا شور ذرا دیر کو دھل جاتا ہے سڑکیں سانس لیتی ہیں اور انسان چھتری کے نیچے اپنے آپ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے ہر قطرہ کچھ کہنا چاہتا ہے مگر ہم اسے محض موسم سمجھ کر گزر جاتے ہیں جنگیں اب اعلان کے بغیر آتی ہیں وہ خبروں میں داخل ہوتی ہیں اور دلوں سے گزرتی نہیں ایک بٹن دبتا ہے نقشہ بدل جاتا ہے اور انسان اعداد و شمار میں منتقل ہو جاتا ہے موت اب چیختی نہیں اپ ڈیٹ ہو جاتی ہے افراتفری کسی حادثے کا نام نہیں یہ ہماری روزمرہ حالت ہے ہم تیز چلتے ہیں کیونکہ رُکنے کا وقت نہیں ہم بولتے ہیں کیونکہ سننے کا حوصلہ نہیں اور سوچنا اب ایک پرانی عادت سمجھا جاتا ہے چہرے ہر طرف ہیں مگر آنکھیں خالی آئینے سچ نہیں دکھاتے صرف وہی لوٹاتے ہیں جو ہم دکھانا چاہتے ہیں انسان پہچان سے زیادہ پروفائل بن چکا ہے یہ دنیا بدل نہیں رہی یہ ہمیں بدل رہی ہے آہستہ خاموشی سے ہمیں انسان سے خبر بنا رہی ہے اور پھ...

بناوٹی ماسک

بناوٹی ماسک رات جب اترتی ہے تو وقت ننگے پاؤں آہستہ آہستہ چلنے لگتا ہے۔ لفظ تھک جاتے ہیں اور احساس بولنے لگتے ہیں۔ رات ہر چہرے سے دن کا بناوٹی ماسک اتار دیتی ہے۔ اندھیرا انسان کو یہ ہنر سکھاتا ہے کہ خود کا سامنا کیسے کیا جائے۔ یہی وہ وقت ہے جب سوالوں کے جواب نہیں ملتے، مگر راستے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ رات کا ہر لمحہ ایک آزمائش ہے اور ایک اعتراف بھی۔ جو اس سناٹے کو سن لے، وہ خود کو پا لیتا ہے۔ #نوریات ایسی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے درج ذیل عنوانات پر کلک کریں خاموشی ایک گم شدہ حکمت دسمبر کے شفق رنگ خواب اپنے گاؤں کے نام کھلا خط

ہر راستہ معنی رکھتا ہے۔

  خود کلامی راستے محض زمین پر کھنچی ہوئی لکیریں نہیں، وقت کے امتحان ہوتے ہیں۔ گرد اڑتی ہے تو منظر دھندلا نہیں ہوتا، ارادے بے نقاب ہوتے ہیں۔ قدم آگے بڑھتے ہیں اور پیچھے چھوٹتی ہوئی خاموشی بتاتی ہے کہ ہر سفر کچھ نہ کچھ قربانی مانگتا ہے۔ گرد اگر جسم پر جم جائے تو بوجھ بن جاتی ہے، مگر یہی گرد سفر کو سچائی بخشتی ہے۔ سنگِ میل نہ حوصلہ بڑھاتے ہیں نہ توڑتے ہیں، بس آئینہ دکھاتے ہیں—یہاں تک آئے ہو، اب فیصلہ تمہارا ہے۔ منزل سے زیادہ اہم شعور ہے۔ جو اسے پا لے، اس کے لیے ہر راستہ معنی رکھتا ہے۔ #نوریات