2025 کی آخری دعا یہ دعا ہاتھ اٹھا کر نہیں کی جا رہی۔۔۔ یہ تو وقت کے ماتھے پر رکھے ہوئے سوال کی طرح ہے۔ اس سال نے ہمیں کامیابیوں کی فہرست نہیں دی، اس نے ہمیں آئینہ دیا۔۔ کچھ دھندلا، کچھ ٹوٹا ہوا، مگر سچ بولتا ہوا۔ یہ دعا آسمان کی طرف نہیں دل کی طرف جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے--- وہیں جہاں 2025 کے قدموں کے نشان ابھی خشک نہیں ہوئے۔ یہ دعا نہیں شکر گذاری ہے کہ ہم نے ہر اندھیرے کو دشمن نہیں سمجھا، کچھ سایوں میں ٹھہرنا سیکھا۔ کہ ہم نے امید کو بڑے خوابوں کے بوجھ سے آزاد کر کے چھوٹی ضدوں میں بانٹ دیا۔۔۔ تھک کر بھی چلتے رہنا، اور خاموشی میں خود کو پہچاننا۔ دعا ہے کہ آنے والا سال ہمیں زیادہ روشن نہیں، زیادہ سچا بنا دے۔ کہ ہم روشنی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی آنکھوں کو دیکھنے کے قابل کر لیں۔ اس طرح کہ یقین دلیل نہ مانگے، بس جگہ مانگے۔۔۔ دل کے کسی کونے میں۔ سال ختم ہو رہا ہے، مگر دعا مکمل نہیں ہوئی۔ شاید دعا کا مکمل ہونا ضروری بھی نہیں۔ کچھ دعائیں انسان کو بدلنے کے لیے ہوتی ہیں، پوری ہونے کے لیے نہیں۔ اور 2025، ہمیں یہی سکھا کر رخصت ہو رہا ہے۔ ہم نے 2025 میں سیکھا کہ زخم صرف تکلیف د...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی