Skip to main content

Posts

Qauntum Magnetic Analyzer for sale

 Quantum Magnetic Analyzer for sale

تعجب ہے کہ جو سردار بھی ہے

 تعجب ہے کہ جو سردار بھی ہے تعجب ہے کہ جو سردار بھی ہے   قبیلے کا وہی غدار بھی ہے عداوت سے بہت بےزار بھی ہے   مگر وہ برسرِ پیکار بھی ہے محبت وادی ء پرخار بھی ہے کرم ہوجائے تو گل زار بھی ہے اسی سے زندگی میں رنگ سارے تعلق باعث آزار بھی ہے لبوں پر "ہاں"   نگاہوں میں "نہیں" ہے "بہم انکار بھی اقرار بھی ہے" کنارے میری قسمت میں کہاں ہیں کوئی دریا ہی دریا پار بھی ہے تیرے لہجے میں جھرنوں کا ترنم مگر تلوار سی اک دھار بھی ہے   کس و ناکس کی جو کرتا ہو عزت وہی تعظیم کا حق دار بھی ہے وہی ہے دل کی راحت کا سبب بھی مگر وہ باعثِ آزار بھی ہے میرا وجدان آسی کہ رہا ہے کوئی روزن پسِ دیوار بھی ہے محمد نور آسی 27 جولائی 2020

چشمِ نم کوکبھی دریا نہیں ہونے دیں گے

 چشمِ نم کوکبھی دریا نہیں ہونے دیں گے چشمِ نم کوکبھی دریا نہیں ہونے دیں گے تیری تصویر کو گیلا نہیں ہونے دیں گے ٹوٹ جائیں کہ بکھرجائیں وفا کی راہ میں "زندگی ہم تجھے رسوا نہیں ہونے دیں گے" اپنی تعظیم کو رکھیں گے ہم حد کے اندر پُوج کر اس کوخدا نہیں ہونے دیں گے اڑ گئے سارے پرندے بھی تو ہم بیٹھیں گے ہم درختوں کواکیلا نہیں ہونے دیں گے ربط رکھنا ہے تو انداز بھی بدلو اپنے یہ رویے تو کسی کا نہیں ہونے دیں گے رات کٹ جائے گی ، سورج بھی نکل آئے کا پر تیرے وہم سویرا نہیں ہونے دیں گے وہ دعاؤں کے جن سایوں کو اوڑھے ہوئے ہے میری بیٹی کو زلیخا نہیں ہونے دیں گے محمد نور آسی 19-09-2019

جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں

جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں غزل  دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں ہم تیرا دیکھنا سمجھتے ہیں اس لئے ہم برے ہیں بتلاؤ ہم برے کو برا سمجھتے ہیں ہم پرندوں کو ساتھ لے آئے جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں وہ عمودی ہو یا کہ افقی ہو ترا ہر زاویہ سمجھتے ہیں عشق تھا، صبر تھا کہ قربانی ہم کہاں کربلا سمجھتے ہیں وصل کیا ہے ؟ تمھیں نہیں معلوم؟ چل، کسی روز آ، سمجھتے ہیں یہ محبت ردیف ہے صاحب آپ کیوں قافیہ سمجھتے ہیں قربتیں تو اسی کا پرتو ہیں ہم جسے فاصلہ سمجھتے ہیں اب بھی یوسف کے کچھ برادر ہیں "دوستی کو برا سمجھتے ہیں" ہم فقط شعر ہی تو کہتے ہیں لوگ ہیں کیا سے کیا سمجھتے ہیں لوگ منزل سمجھ کے بیٹھے ہیں ہم جسے راستہ سمجھتے ہیں تیرے قدموں کی لڑکھڑاہٹ کو ہم ترے زیر پا سمجھتے ہیں گرچہ ہم جانتے ہیں عاصی ہیں لوگ ہیں! پارسا سمجھتے ہیں محمد نورآسی 14-09-2019 

لفظ ہجرت پر کہے گئے اشعار

لفظ ہجرت پر کہے گئے اشعار یہ اشعار انحراف انٹرنیشنل فورم میں لکھے گئے تھے یہ خانہ بدوشی سے الگ اور ہی دکھ ہے ہجرت کو فقط نقل مکانی نہیں سمجھو ٭٭٭٭٭ اپنے گھر سے نکلنا پڑتا ہے ہجرتیں بیٹھ کر نہیں ہوتیں ٭٭٭٭٭ ان کو رکنے کا حکم ہو سائیں پاؤں ہجرت پہن کے بیٹھے ہیں ٭٭٭٭٭ اونٹوں کی اک قطار تھی ، صحرا کی دھوپ تھی ہجرت کی دوپہر کسی سوہنی کا روپ تھی ٭٭٭٭٭ گلیاں، گھر ، چوبارے، سارے خواب بھی چھوڑنے پڑتے ہیں ہجرت کرنے والے دل میں لاکھوں قبریں ہوتی ہیں ٭٭٭٭٭ حسرت سے آنکھ دیکتھی تھی جب پڑاؤ کو ہجرت نے مسکرا کے اشارہ کیا مجھے ٭٭٭٭٭ ہجرت کی ابتدا تو خدا جانے کب ہوئی یثرب سے جب حسین چلے، انتہا ہوئی ٭٭٭٭٭ کون تھا جو ہجرت کا سوچتا مدینے سے بات تھی شریعت کی حوصلہ حسینی تھا ٭٭٭٭٭ میری طرح سے یہ ہجرت پسند ہوتے ہیں اسی لئے تو پرندوں سے پیار ہے مجھ کو ٭٭٭٭٭ ہجرت کے دکھ سہنے والے اس کی عظمت جانتے ہیں ہجرت ایک ریاضت بھی ہے ہجر ت ایک سعادت بھی ٭٭٭٭٭ مجھے حیرت سے کیوں تم دیکھتے ہو یہ موسم ہیں جو ہجرت کررہے ہیں محمد نور آسی 2019

دہرے قوافی کے ساتھ ایک غزل

دہرے قوافی کے ساتھ  ایک غزل محمدنور آسی  مروت سے جو ملتا ہے سمجھ لیتے ہیں ہم اپنا تبھی تو سانپ مل جاتے ہیں اکثر آستیں نیچے   کہیں قدموں میں ہم بھی اس کو   شاید پھر نظر آتے اگر تو دیکھ لیتا وہ ستم گر دل نشیں نیچے روانی ہے کسی جھرنے کی جیسے۔ اک پہاڑی سے   لچکتی آ رہی ہے وہ اتر کر ماہ جبیں نیچے بڑے آئے گئے دنیا میں   تم جیسے کئی آسی ہیں بے نام و نشاں دارا اور اسکندر، زمیں نیچے ہمیشہ خواب دیکھ اونچے فلک کو چھو ستارے چن نظر رکھ آسمانوں پر مگر رکھ کر زمیں نیچے زمیں ہے آسماں میرا ، یہیں ہے آستاں میرا کہ میرا آسماں نیچے، مرے اختر یہیں نیچے کہاں آسی اس قابل فقط تیری نوازش ہے مجھے بھی آسماں بخشا ہے مٹھی بھر یہیں نیچے 2019

صدق میں بڑھ کر ہے سب سے مرتبہ صدیق کا

صدق میں بڑھ کر ہے سب سے مرتبہ صدیق کا