Skip to main content

Posts

محبت سب کے لئے

محبت سب کے لئے میری یہ تحریر آج سے کچھ سال پہلے پاک نیٹ پہ شائع ہوئی ۔ اور اس کے بعد یہ مختلف فورمز اور پیجز پر کاپی پیسٹ ہوتی    رہی۔ آج اتفاق سے کسی نے فیس بک پہ پوسٹ کی  تو میں اسے محفوظ رکھنے کی خاطر اپنے بلاگ پر لگا یا  ہے۔محمد نور آسی ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  ایک ٹیچر اپنی کلاس کے معصوم بچوں کو محبت اور نفرت کا فرق سمجھا نا چاہ رہی تھی ۔ اس نے بچوں کو ایک کھیل کے  ذریعے یہ سبق سکھا نے کا فیصلہ کیا ۔ اور بہت سوچنے کے بعد اس نے بچوں کو کہا " بچو ہم ایک کھیل کھیلنے جا رہے ہیں ۔ جس کے آخر میں آپ کو ایک بہت شاندار سبق بھی حا صل ہو گا۔ کیا آپ سب یہ کھیل کھیلنے کیلئے تیار ہیں " بچوں نے یک زبان ہو کر کہا" جی ۔ بالکل " " تو بچو۔ آپ کو کرنا یہ ہے کہ کل جب آپ سکول آئیں تو اپنے ساتھ ایک شاپنگ بیگ میں اتنے ٹماٹر ڈال کرلائیں جتنے لوگوں سے آپ نفرت   کرتے ہیں " ٹیچر نے کہا سب بچوں نے بڑے جوش و خروش سے ٹیچر سے وعدہ کیا کہ کل وہ ایسا ہی کریں گے۔ چنانچہ دوسرے دن ہر بچے کے ہاتھ میں ایک شا...

شادی ۔ ایک مذہبی فریضہ یا نمائش

شادی ۔ ایک مذہبی فریضہ یا نمائش تحریر : محمد نور آسی شادی ۔۔۔۔ شادی ۔۔۔۔ خانہ آبادی۔۔۔ ہر مذ ہب میں شادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے - اسلام میں شادی حکم خداوندی کے ساتھ ساتھ سنت رسول بھی ہے۔ اسلام شادی کو معاشرے کی بنیا د کا پہلا پتھر قرار دیتا ہے ۔ اور قران میں بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ شادی، میاں بیوی کے تعلقات، اور طلاق جیسے معاملات کو بیان کیا گیا ہے۔ شادی جہان ایک مذہبی فریضہ ہے وہیں ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔ ایک مر د یا ایک عورت شا دی کے معاشرے میں عملی کردار ادا کرنے کی ابتدا کرتے ہیں۔ چنانچہ ضروری ہے کہ شادی سے پہلے ہی ہر دو افراد کو ان تمام ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کیا جائے جو ایک معاشرے کا فعال رکن بننے کی حیثیت سے ان پر نا فذ ہوتی ہیں۔ ہمارے ماحول میں شادی اب ایک مذہبی فریضے سے زیا دہ ایک نمائشی پروگرام اور ایک نام نہادثقافتی شو بن کر رہ گئی ہے - اسکے پیچھے ایک مکمل تاریخ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برصغیر پاک وہند کا علاقہ اسلام کی روشنی آنے سے پہلے بہت سارے من گھڑت مذاہب کی آماجگا ہ رہاہے ۔ جن میں سر فہرست ہندو مت ہے۔ ہندو مت بنیادی طور کچھ رسومات اور کچھ توہمات کا ملغوبہ ہے-...

مشکل کشا ہتھیار

 مشکل کشا ہتھیار اررے ارررررے گھبرائیں نہیں میں کسی ایسے ہتھیار کی بات نہیں کر وں گا جس کیلئے لائسنس کی ضرورت پڑے بس ایک سادہ سا ہتھیارہے جو آپ کی بہت سی مشکلوں کو آسان کرنے میں فی زمانہ بہت کارآمد ہے جی ہاں ۔۔ اور ہتھیار کا نام ہے خوشامد جی خوشامد گرچہ بہت پرانا ہتھیار ہے مگر اس جدید دور میں بھی بہت زبردست کام کرتا ہے۔ کوئی بھی کام نکلوانا ہو۔۔ فورا خوشامد شروع کر دیں۔ اور پھر دیکھیں اس کا کمال لیکن اس کیلئے سب سے پہلے بندے کو اپنی " میں" مارنی پڑتی ہے۔ تھوڑا سا ڈھیٹ‌ہو نا پڑتا ہے۔ اس اس مقولے پر عمل کرنا پڑتا ہے کہ عزت آنے جانے والی چیز ہے وہ اپنے اس سیاستدان کا قصہ آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ جو سرکاری عہدیداروں کو گالی دے کر کہتا تھا۔ اس کی کیا مجال کہ میری بات ٹالے، میرا کام نہ کرے۔ میں ابھی اس سے ملتاہوں اور پھر صاحب کے کمرے میں جا کر پاوں پڑ جا تا تھا ، سرجی میری "عزت" کا سوال ہے۔ بس جب کام ہوجا تا تو اکڑ کر کہتا۔ ارے سالا کیسے نہ کام کرتا ۔میرے آگے اسکی حیثیت ہی کیا ہے سو یہ خوشامد بڑے کام کا ہتھیار ہے۔ میں نے سرکاری دفتروں بہت سے نااہلوں کو اس ہتھیار سے بڑے بڑے...

مس کالو جی۔ ایک نئی سائنس

مس کالو جی۔ ایک نئی سائنس محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟   یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں   یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے      مس کال اور لوجی     یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے   سب سے پہلے کس نے مس کال ماری- اس کے بارے میں کوئی مصدقہ حوالہ   موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہی ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو ماری ہوگی۔   راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ   مس کا لیں مارتے مارتے اپنا بیلنس زیر و کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان   ہو کر کہتے ہیں   یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایما...

جمہوری حکومت کے پانچ سال پورے ہوگئے

جمہوری حکومت کے پانچ سال پورے ہوگئے بالاخر حکومت نے اپنے پانچ سال کی آئینی مدت پوری کرلی۔ کیسے کر لی۔ اور اس آئینی مدت میں عوام کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ ایک الگ قصہ ہے تاہم حکومت اور اپوزیش دونوں خوش ہیں۔ اور بہت باچھین کھلا کھلا کر اس بات کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بیان کر رہے ہیں گویا انہوں نے یہ کارنامہ سرانجام دے کر قوم پر احسان عظیم کیا ہے۔ اور قوم کو شکر گذار ہونا چاہیے کہ ہم اب ایک مکمل جمہوری ملک ہیں۔ سبحان اللہ ۔ کیا واقعی ۔ قوم کو خوش ہونا چاہیے۔ آئیے ذرا اس سوال کا جائزہ ایک عام آدمی کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ کیا عام آدمی کا معیار زندگی اس جمہوری حکومت کے سنہری پانچ سالہ دور میں بلند ہوا کیا عام آدمی کو امن ، سکون اور اطمینان نصیب ہوا کیا عام آدمی کو روزگار کے باعزت مواقع ملے۔ کیا ضروریات زندگی تک رسائی آسان ہوئی۔ کیا عام آدمی زندہ رہنے کے بنیادی  ضروریات جیسے پانی، بجلی ، گیس، ذرائع آمدورفت اور اس جیسی دیگر سہولیا ت کی آسان اور سستی فراہمی ممکن ہوئی کیا عام آدمی کو رہنے کے لئے چھت ، پہننے کے لئے کپڑے اور کھانے کے لئے خوراک حاصل کرنا کیا اس جمہوری حکومت نے ...

نسبت کی بات ہے

 نسبت کی بات ہے ایک بچے نے دیکھا کہ ایک بزرگ گلیوں میں بکھرے ہوئے کچھ کاغذ اکٹھے کر رہا ہے اور انہیں جھاڑ پونچھ کر تہ کرتاہے اور اپنے پا س موجود ایک لفافے میں ڈالتا جا تا ہے۔ وہ شکل سے کافی معزز نظر آرہا تھا اور کپڑے بھی بہت صاف ستھر ے پہنے ہوئے تھا۔ بچے کو تجسس ہوا کہ یہ کیا کر رہا ہے۔ وہ بزرگ کے پاس گیا اور پوچھا "با با جی آپ یہ کیا کر رہے ہیں" بزرگ نے بچے کو دیکھا اور بہت دردنا ک لہجے میں بولا "بیٹے۔ میں اپنے پیارے وطن کے جھنڈے اٹھا رہا ہوں۔ جو لوگوں نے بھینک دیے ہیں" بچے نے دیکھا اسکے ہا تھ میں کاغذ کی جھنڈیاں تھیں جو لوگ 14 اگست کو گھروں پر لگاتے ہیں۔ اور بارش یا ہوا سے وہ گلیوں میں بکھر جا تی ہیں۔ بچے نے کہا " بابا جی 14 اگست تو گذر گیا ۔اب آپ ان جھنڈیوں کا جو پھٹ چکی ہیں۔ کیا کریں گے۔" باباجی کے منہ سے ایک سرد آہ نکلی "بیٹے میں انہیں کسی محفوظ جگہ پر رکھوں گا ۔ تا کہ ان کی بے ادبی نہ ہو" "بے ادبی" بچے نے حیرت سے کہا " مگر یہ تو کاغذ کے ٹکڑے ہیں" " جی ہا ں بیٹے۔ یہ کاغذ کے ٹکڑے ہیں ۔" بزرگ نے کہا" مگر ان...

دنیا کی سب سے خوبصورت عورت

دنیا کی سب سے خوبصورت عورت جی ہاں دنیا کی سب سے خوبصورت عورت کون ہو سکتی ہے؟ مجھے نہیں پتہ آ پ کیا جواب دیں گے۔ میرے نزدیک دینا کی سب سے خوبصورت عورت " میری ماں " ہے۔ میری ماں میرا سب کچھ میری دنیا میری جنت میرے ذہن میں محفوظ اپنی ماں کا سب سے پہلا عکس جو ابھر تا ہے وہ ایک شفیق، مہربان ، اور خوبصورت چہرے کا ہے جو میری آنکھو ں کو ٹھنڈ ک بخشتا ہے۔ جو میری روح تک کو سرشار کر دیتا ہے۔ میری یاداشت میں مجفوظ ایک منظر صبح دم آنکھ کھلنے اور " گھوں گھوں" کی ایک مسحورکن آواز کا ہے یہ آواز پتھر کی بنی چکی سے نکلتی تھی۔ اور صبح دم میرے بچپن میں مجھے بیدار کر تی تھی میں جب سردیوں کی صبح کو اپنا سر رضاتی سے با ہر نکالتا تو مجھے سامنے اپنی ماں چکی کو گھماتے نظر آتی ۔ میں پتہ نہیں کتنی دیر تک اپنی ماں کو دیکھتا رہتا اور چکی کی " گھوں گھوں" کو سنتے سنتے پتہ نہیں کب میری آنکھ دوبارہ لگ جا تی۔ اس دور میں ہمارے گھر میں گھر کی گندم کے روزانہ تازہ پسے ہوئے آٹے سےاور اپنے ماں کے مہربان ہاتھوں سے پکے ہوئےپراٹھے ملتے ۔ ان پراٹھوں جیسی لذت بھر زند گی بھر کسی پراٹھے میں نہ ملی۔ ...