Skip to main content

Posts

کورا ورق

وہ ایک کورا ورق سامنے لے آئی تھی جس کی سفیدی میں ایک عجیب ہیبت تھی جیسے کسی بے نام سمندر کا ٹھہراؤ یا کسی ایسی صبح کا آغاز، جس کا سورج ابھی مٹھی میں ہو وہ چاہتی تھی کہ میں لفظوں کی زِرہ پہنوں اور اپنی انا کے حصار میں بیٹھ کر اُس کی یادوں کے کچھ کتبے تراشوں مگر میں نے لفظوں کی تجارت سے انکار کر دیا! کیونکہ حرف تو وہ لکیریں ہیں جو حدیں مقرر کرتی ہیں اور محبت... محبت تو وہ وسعت ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتی میں نے کاغذ کی اُس ہولناک چمک کو ویسا ہی رہنے دیا اور آخری سطر کے نیچے، جہاں وجود کی انتہا ہوتی ہے اپنے ہونے کا ایک دھندلا سا نشان چھوڑ دیا یہ دستخط نہیں تھے! یہ میری خودی کی آخری وصیت تھی یہ اعلان تھا کہ میں نے اپنی تقدیر کا قلم اُس کے ہاتھ میں تھما دیا ہے اب وہ چاہے تو اس بنجر سفیدی پر میری بربادی کے قصے رقم کرے یا مِرے نام کے گرد، کسی مقتل کی دیوار کھینچ دے میں نے خود کو اس کے 'خاموش فیصلے' کے حوالے کر دیا ہے اب وہ کورا ورق، کورا نہیں رہا وہ میری مکمل شکست کا ایک مستند اشتہار ہے جس پر لکھا ہر وہ لفظ جو ابھی نہیں لکھا گیا مِرا نصیب ہے! میں نے اپنے آپ کو ایک ایسے قید خانے میں ڈال...

پندرہ فروری کا 'اعصابی ٹاکرا' اور مسٹری باؤلنگ کا جادو

  پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا "سماجی بخار" ہے جس کی کوئی ویکسین آج تک دریافت نہیں ہو سکی۔ آج کل سری لنکا کی ہوائیں کچی الائچی سے زیادہ پاکستانیوں کے گرم جوش تبصروں سے مہک رہی ہیں۔ ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچوں میں کیا فتح ملی، پوری قوم نے مہنگائی کے نوحوں اور بجلی کے بلوں کے جھٹکوں کو "میوٹ" پر لگا دیا ہے۔ مگر صاحب! یہ مٹھاس تو محض ایک "ایپی ٹائزر" ہے، اصل ضیافت تو 15 فروری کو سجے گی جب روایتی حریف بھارت سامنے ہوگا۔ پچھلے دنوں "انکار اور اقرار" کا جو ایک بھونچال مچا ہوا تھا، اب اس کی گرد بیٹھ چکی ہے۔ کبھی خبر آتی کہ ہم سرحد پار نہیں جائیں گے، کبھی شرائط کی ایسی فہرست پیش کی جاتی جیسے کوئی روٹھا ہوا دولہا سسرال والوں کو تگنی کا ناچ نچا رہا ہو۔ خیر، اب فیصلہ ہو چکا، ٹیم میدان میں ہے اور عوام کے دلوں کے "پیس میکر" 15 فروری کی ٹک ٹک گننے میں مصروف ہیں۔ اس بار ٹیم کا نقشہ بھی کسی "ٹیکنالوجی اپ گریڈ" جیسا ہے۔ صائم ایوب کا "نو لک شاٹ" (No Look Shot) تو جادو بن کر سر چڑھ رہا ہے۔ صائم جب آنکھیں بند کر کے گین...

ساعتِ مصلوب

چائے کی پیالی سے اٹھتی ہوئی بھاپ نے فضا میں ایک مبہم سا سوالیہ نشان بنایا اور پھر خاموشی کے مہیب غار میں اتر گئی۔ میز کے اس پار بیٹھا ہوا شخص شاید کچھ کہہ رہا تھا، اس کے لبوں کی جنبش سے لفظوں کے شکستہ ڈھانچے برآمد ہو رہے تھے، مگر سماعتوں کے پردے پر دستک دینے سے پہلے ہی وہ کہیں غائب ہو جاتے تھے۔ "دیکھو، اگر ہم اس منصوبے کو اگلے ماہ تک..." جملہ ابھی فضا میں معلق تھا کہ کھڑکی سے آنے والی دھوپ کی ایک لکیر اچانک سنہری دھول میں بدل گئی۔ وہ جو حال کی کرسی پر بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ کی پوریں میز کی لکڑی کو چھو رہی تھیں، مگر لمس کا احساس کسی قدیم کتبے کی ٹھنڈک میں بدلنے لگا۔ کمرے کی دیواریں یک لخت پگھلنے لگیں اور ان کی جگہ نیلم کی ایک وسعت نے لے لی۔ وہاں، اس نیلی دھند کے پار، ایک پرانی لکڑی کی سیڑھی تھی جس پر پیر رکھتے ہی کچ کچاہٹ کی آواز آتی تھی۔ یہ آواز آج کی نہیں تھی، یہ اس وقت کی تھی جب کیلوں میں زنگ نہیں لگا تھا اور لکڑی کی خوشبو سانسوں میں گلاب کی طرح مہکتی تھی۔ پاؤں کے نیچے بچھے ہوئے قالین کے ریشے اب گھاس کی پتیاں بن چکے تھے، جن پر شبنم کے قطرے کسی ادھوری دعا کی طرح ٹکے ہوئ...

چڑیوں کی چہچہاہٹ: کائنات کا پہلا مکالمہ

  سورج ابھی افق کی دہلیز پر دستک دینے کا سوچ ہی رہا ہوتا ہے کہ فضا میں ایک باریک سا ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ شور نہیں، بلکہ کائنات کا وہ قدیم ترین "سافٹ ویئر" ہے جو ہر صبح بغیر کسی غلطی کے اپ ڈیٹ ہوتا ہے۔ ہم اسے 'چڑیوں کی چہچہاہٹ' کہتے ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ محض ایک حیاتیاتی ضرورت ہے یا کسی وسیع تر حقیقت کا حصہ؟ چڑیاں صبح سویرے اس لیے نہیں چہچہاتیں کہ انہیں دن بھر کے رزق کی فکر ہے، بلکہ وہ تو روشنی کے پہلے قطرے کا استقبال اس یقین سے کرتی ہیں جیسے وہ اس کائنات کی سب سے بڑی رازداں ہوں۔ ان کی آوازوں میں ایک ایسی تیکھی معصومیت ہوتی ہے جو انسان کے خود ساختہ وقار اور مصنوعی سنجیدگی کو ایک لمحے میں مسمار کر دیتی ہے۔ ان کا نغمہ دراصل 'عدم' سے 'وجود' کی طرف واپسی کا ایک اعلان ہے۔ جب انسان گہری نیند میں اپنی شناخت کھو چکا ہوتا ہے، یہ ننھی جانیں فضا کے کینوس پر آوازوں کے رنگ بکھیر کر کائنات کو یہ بتاتی ہیں کہ شعور کی لہر بیدار ہو چکی ہے۔ یہ کوئی روایتی حمد و ثنا نہیں، بلکہ ایک خاموش فلسفہ ہے کہ جینے کے لیے صرف سانس لینا کافی نہیں، بلکہ اپنی موجودگی کا...

آغاز

پرندے جب پروں کو پھڑپھڑاتے ہیں خاموشی بولنے کا ڈھنگ سیکھتی ہے  سحر پہلی کرن سے گفتگو آغاز کرتی ہے #نوریات

اداسی اور خود شناسی

اسلام آباد کی سرمئی صبح، جہاں بادلوں نے مارگلہ کی چوٹیوں کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے، محض ایک موسمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی واردات ہے۔ جب آسمان سے بوندیں نہیں، بلکہ خاموشی گر رہی ہو، تو انسان خود سے چھپ نہیں سکتا۔ یہ جو ہلکی بوندا باندی ہے، یہ دراصل زمین اور آسمان کے درمیان ہونے والی ایک سرگوشی ہے۔ کبھی یہ پھوار کی صورت میں گالوں کو چھوتی ہے تو کبھی خاموش ہو کر انتظار کا کرب بڑھا دیتی ہے۔ اس موسم کا سب سے انوکھا زاویہ یہ ہے کہ یہ ماضی کو حال کے آئینے میں لا کھڑا کرتا ہے۔ اکثر لوگ اسے اداسی کہتے ہیں، مگر یہ اداسی نہیں بلکہ خود شناسی کا وہ لمحہ ہے جہاں ہم اپنی مصروفیات کی ڈھال اتار کر کھڑے ہوتے ہیں۔ بوندوں کا تسلسل جب ٹوٹتا ہے، تو وہ وقفہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ زندگی بھی تو ایسی ہی ہے؛ کبھی خوشیوں کی جھڑی اور کبھی ٹھہرا ہوا سناٹا۔ اس موسم میں ایک عجیب تضاد ہے۔ سرور سا ہے جو تخلیق کار کو نئے استعاروں کی نوید دیتا ہے۔ اور اک ملال سا ہے جو بچھڑے ہوئے لوگوں کی دستک بن کر دل پر گرتا ہے۔ مارگلہ کی ڈھلوانوں پر اترتی یہ ہلکی ہلکی دھند ہمیں کہہ رہی ہے کہ حقیقت ہمیشہ واضح نہیں ہوت...