Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2026

پیزا بمقابلہ پراٹھا

 پیزا بمقابلہ پراٹھا کالم

موبائل کا گھن چکر

 موبائل کا گھن چکر کالم

فارغین کی محفل

 فارغین کی محفل کالم

سکوتِ حرف کی کلید

 سکوتِ حرف کی کلید تم نے دیکھا ہے کبھی حرف کو مرتے ہوئے بھی؟  لفظ جب اپنی ہی تقدیس کے مقتل میں گریں  اور مفاہیم کی شریان سے رستا ہوا خوں  اہلِ ثروت کی جبینوں پہ چمکنے لگ جائے  تب کسی نوحہ گرِ وقت کی ہمت ہے کہ وہ  سچ کی لکنت کو نیا لہجہ، نئی کاٹ عطا کر پائے؟ اے مبصر! ترے کشکول میں یادوں کے سوا  کوئی سکہ، کوئی تعبیر، کوئی خواب بھی ہے؟  یہ جو تم وقت کی دہلیز پہ بیٹھے ہوئے ہو  اور معدوم زمانوں کی نویدیں سن کر  اپنے شانوں پہ کلف دار ردائیں پہنے  اپنے ہونے کی گواہی میں کھڑے رہتے ہ و کیا کبھی تم نے سنا، گدھ کی اڑانوں کا وہ شور؟  جو فضاؤں میں کسی رزق کی بو پاتے ہی  اپنے پنجوں میں لچک، آنکھ میں وحشت بھر لیں وصل کی رات کو ہجر کے معنی نہ پہناؤ ابھی  کہ ابھی انگلیاں کٹنے کی رت آئی نہیں  ابھی باقی ہے ذرا حرف کی حرمت کا بھرم  ابھی باقی ہے وہ "نادیدہ جہانوں کا بدن"  جس کی پوشیدہ چمک،  خستہ چراغوں کے لیے ایک اعجاز بنے،  ایک تجلی بن کر ظلمتِ شب کو سحر زاد تبسم دے دے #نوریات

شکر کی دھوپ اور ضمیر کا استفسار

  شکر کی دھوپ اور ضمیر کا استفسار بعض اوقات صبح کا اجالا صرف کھڑکیوں کے شیشے ہی نہیں توڑتا، بلکہ ہمارے اندر جمی ہوئی برف کو بھی پگھلانے کی کوشش کرتا ہے۔ آج کی یہ سرد صبح بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ جنوری کے آخری ایام، کمرے میں پھیلی ہوئی مخصوص خنکی اور باہر کہرے کی وہ دبیز چادر جس نے کائنات کے ہر منظر کو ایک پراسرار خاموشی میں لپیٹ رکھا ہے۔ لیکن اس دھند کے پیچھے ایک سورج ہے، جو ابھی پوری طرح نمودار نہیں ہوا مگر اس کی تپش ہواؤں میں محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ جمعہ کی صبح ہے، اور جمعہ محض ایک دن نہیں، ایک کیفیت کا نام ہے—ایک ایسی کیفیت جو آپ کو مجبور کرتی ہے کہ آپ اپنی دوڑتی بھاگتی زندگی کے پہیے کو ذرا دیر کے لیے روک دیں اور خود سے ایک سوال کریں: "اس تمام ہنگامہ آرائی کا حاصل کیا ہے؟ " ہماری زندگی بھی ان سردیوں کی دھند کی طرح ہو گئی ہے۔ ہم چل تو رہے ہیں، مگر منزلیں دھندلی ہیں۔ ہم بول تو رہے ہیں، مگر الفاظ میں تاثیر نہیں۔ ہم مانگ تو بہت کچھ رہے ہیں، مگر جو ہاتھ میں ہے اس کی قدر نہیں۔ آج جب میں نے چائے کی پیالی تھامے اس سنہری روشنی کو فرش پر پھیلتے دیکھا، تو مجھے احساس ہوا کہ ہم کائنات کے...

آدھے قد کا دیوتا

  آدھے قد کا دیوتا انسان کے اندر ایک ایسی کھڑکی ہمیشہ ادھ کھلی رہتی ہے، جس کا رخ اس گلی کی طرف ہے جہاں اب کوئی نہیں رہتا۔ ہم نے دنیا کی دھوپ میں چل کر اپنے وجود تو سخت کرلیے، لہجے میں منطق کی برف جما لی اور آنکھوں میں مصلحت کے جالے بن لیے، لیکن سینے کے ایک اندھیرے گوشے میں ایک بچہ اب بھی دبک کر بیٹھا ہے جو بالغ ہونے سے صاف انکاری ہے۔ وہ بچہ جو آج بھی ٹوٹے ہوئے کھلونے پر نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے بھروسے پر اسی شدت سے سسکتا ہے جیسے پہلی بار گرنے پر رویا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے بڑے ہو کر معاف کرنا سیکھ لیا، مگر وہ بچہ اب بھی پشیمانی کی گردن پکڑ کر اسے کونے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ خوشی کے ہر بڑے موقع پر ایک ایسی چھوٹی سی کمی ڈھونڈ لاتا ہے جو صرف ایک ناسمجھ ہی ڈھونڈ سکتا ہے۔ اسے اس بات سے غرض نہیں کہ آپ نے کتنی دولت کمالی، وہ تو آج بھی اس ایک ہاتھ کی تلاش میں ہے جو بھیڑ میں کہیں چھوٹ گیا تھا۔ کبھی کبھی آدھی رات کو جب شعور کی دنیا سے تعلق ٹوٹتا ہے، تو وہ بچہ اٹھ کر آپ کے ماتھے پر پڑی شکنوں کو حیرت سے چھوتا ہے اور پوچھتا ہے، "تم نے اتنے نقاب کیوں پہن رکھے ہیں؟" ہم اسے چپ کروانے کی...

کائنات، خالق اور انسانی وجود

کائنات، خالق اور انسانی وجود: ایک ابدی و جذباتی مکالمہ سکوتِ ازل اور حرفِ تمنا کائنات کی اس طویل داستان کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں نہ کوئی رنگ تھا، نہ کوئی خوشبو، اور نہ ہی وقت کی کوئی لکیر۔ ایک ایسا مہیب اور گہرا سناٹا جو خود اپنے بوجھ سے دبا جا رہا تھا۔ عدم کے اس اتھاہ سمندر میں، اے میرے خالق! صرف تو ہی تھا جو اپنی وحدت کے جلال میں پوشیدہ تھا۔ پھر اچانک، تیری قدرت کے ماتھے پر ایک ارادہ چمکا، ایک ایسی خواہش جو ظہور کی متمنی تھی۔ تو نے چاہا کہ تو پہچانا جائے، تو نے چاہا کہ تیرے حسن کی تجلی کو کوئی دیکھنے والی آنکھ میسر آئے۔ اور پھر وہ لمحہ آیا جس نے عدم کی بنیادیں ہلا دیں۔ تیرے لبوں سے "کُن" کی وہ صدا نکلی جس نے سکوتِ ازل کے پرخچے اڑا دیئے۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں تھا، یہ ایک ایسا انفجار (Explosion) تھا جس سے روشنی کے اربوں فوارے پھوٹے، زمان و مکان کی چادریں بنیں، اور ستاروں کی دھول فضاؤں میں رقص کرنے لگی۔ کہکشائیں وجود کے ساحل پر لہروں کی طرح بکھرتی گئیں اور کائنات نے اپنی پہلی سانس لی۔ لیکن اس مہیب وسعت میں، اس بے پناہ نور اور آگ کے کھیل میں، ایک ایسی کمی تھی جسے صرف مٹی کا ا...

کچھ لمحے وقت سے زیادہ وزنی ہوتے ہیں

  کچھ لمحے وقت سے زیادہ وزنی ہوتے ہیں وقت کے پاس اپنی کوئی ترازو نہیں ہوتی، وہ تو بس ایک ہموار رفتار سے گزرتا رہتا ہے ۔۔۔ جیسے ریت ہاتھ سے پھسلتی ہے یا جیسے کوئی خاموش دریا سمندر کی طرف بڑھتا ہے۔ لیکن انسانی حافظے کے پاس ایک عجیب پیمانہ ہے۔ کبھی کبھی ایک پوری دہائی گرد کی طرح اڑ جاتی ہے اور پیچھے کوئی نشان تک نہیں چھوڑتی، مگر کبھی کوئی ایک پل، کوئی ایک لمحہ اتنا بوجھل اور وزنی ہو جاتا ہے کہ وہ زندگی کے پورے تسلسل کو روک دیتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جو کلاک کی سوئیوں کے مطابق تو صرف چند سیکنڈز پر محیط ہوتا ہے، مگر روح کے اندر وہ صدیوں جتنا پھیل جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کوئی اپنا رخصت ہوتے ہوئے سامانِ سفر سے پہلے اپنا عذر تیار کر چکا ہوتا ہے، یا جب یادوں کی کسی گلی میں ایک پرانی خوشبو اچانک آپ کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتی ہے۔ تب گھڑی کی ٹک ٹک رکتی نہیں، مگر آپ کے اندر کی کائنات تھم جاتی ہے۔ ایسے لمحے وقت کے سینے پر ایک گہرا زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہیں جب آدمی کو پتہ چلتا ہے کہ خاموشی، آواز سے زیادہ بھاری ہو سکتی ہے اور دیواریں، انسانوں سے بہتر رازداں۔ ہم سالوں کا حساب تو کیلنڈر...

مرا کم بولنا، میری تھکن کی ایک صورت ہے

مرا کم بولنا، میری تھکن کی ایک صورت ہے مرا کم بولنا، میری تھکن کی ایک صورت ہے میں اپنے اندرونی شور سے رشتہ نبھاتا ہوں جہاں پر گفتگو مطلب کے پیرائے میں ہوتی ہو میں ایسی محفلوں میں بولنے سے ہچکچاتا ہوں #نوریات  

کچی چھتوں کا ساز اور روح کا سفر

  بارش کی دھن کچی چھتوں کا ساز اور روح کا سفر جب آسمان کی وسعتیں بوجھل ہو کر زمین کی پیاس کا مقدر بننے لگتی ہیں، تو فضا میں ایک ایسی خاموشی جنم لیتی ہے جو شور سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔ موسلا دھار بارش محض پانی کی بوندوں کا گرنا نہیں، بلکہ زمان و مکاں کے درمیان ایک ٹوٹے ہوئے رابطے کی بحالی ہے۔ اس برستی رت کی اپنی ایک منفرد دھن ہے؛ یہ کوئی لرزہ خیز چیخ نہیں، بلکہ ایک ایسی مدھم اور مسلسل دستک ہے جو شعور کے بند کواڑوں کونفاست سے وا کرتی چلی جاتی ہے۔ ہر گرتی ہوئی بوند مٹی کے سینے پر ایک ایسا حرفِ راز لکھتی ہے جسے صرف وہ دل پڑھ سکتے ہیں جو خود ٹوٹ کر بکھرنے کے ہنر سے واقف ہوں۔ بارش کا یہ اصل سراپا اور اس کا حقیقی آہنگ آج بھی ان کچی چھتوں پر سنائی دیتا ہے جہاں ہر قطرہ ایک نیا ساز چھیڑتا ہے۔ جدید عمارتوں کے کنکریٹ تلے دبا ہوا انسان اس لمس سے محروم ہے، مگر کچی مٹی کی چھت پر بارش کی دستک کائنات کا وہ قدیم ترین نوحہ ہے جو مٹی کو اپنی اوقات یاد دلاتا ہے۔ وہاں بوندیں گرتی نہیں ہیں، بلکہ ایک مدھم رقص کرتی ہیں، اور ان کی ’ٹپ ٹپ‘ میں ایک ایسا تسلسل ہوتا ہے جو انسانی دل کی دھڑکن کو اپنے تال پر لے آتا ...

شہروں کی نیندیں اور ان کے خواب

  شہروں کی نیندیں اور ان کے خواب شہر سوتے نہیں، بس آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اور آنکھیں بند کرنے کا ہنر وہ انسانوں سے بہتر جانتے ہیں۔ رات کے کسی پچھلے پہر میں، جب سڑکیں اپنے دن بھر کے قدموں سے تھک کر خاموش ہوتی ہیں، شہر کروٹ بدلتا ہے۔ بجلی کے کھمبے مدھم سانس لیتے ہیں، فٹ پاتھ اپنے زخم سمیٹتے ہیں، اور بند دکانوں کے شٹر ایسے لگتے ہیں جیسے پلکیں ہوں ۔۔ جن کے پیچھے خواب جاگ رہے ہوں۔ ہر شہر کی نیند الگ ہوتی ہے۔ کوئی شہر شور میں سوتا ہے، کسی کو خاموشی ڈراتی ہے۔ کہیں خواب اونچی عمارتوں کی چھتوں پر اٹکے رہ جاتے ہیں، کہیں نالیوں میں بہتے ہوئے مستقبل کی طرح بدبو دار مگر زندہ ہوتے ہیں۔ میں نے ایک شہر کو خواب میں روتے دیکھا۔ وہ خواب دیکھتا تھا کہ اس کے مکین رک گئے ہیں، بھاگنا چھوڑ دیا ہے، اور اس کے سینے پر سر رکھ کر سو رہے ہیں۔ مگر جیسے ہی وہ خواب گہرا ہونے لگتا، کسی فیکٹری کی سیٹی، کسی موبائل کی گھنٹی، یا کسی بھوکے بچے کی ہچکی اسے جگا دیتی۔ شہر اکثر وہ خواب دیکھتے ہیں جو ان کے باسی دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ وہ خواب، جن میں انصاف ہوتا ہے مگر شور نہیں۔ محبت ہوتی ہے مگر اشتہار نہیں۔ اور وقت کے پاس مہلت ...

حیرت

  حیرت پرندہ اڑ کے گیا ہے تو اب یہ سوچتا ہوں جسے میں پیڑ سمجھتا تھا اک مدت سے وہ محض میری تھکن کا لباس تھا شاید #نوریات

سکوت

  سکوت یہ جھیل سوئی ہوئی ہے کہ تھک گئی ہے بہت کسی بھی لہر نے دستک نہ دی کنارے پر عجیب چپ ہے کہ آواز کانپتی ہے مری #نوریات

جیسے جیسے ہم مردم شناس ہوتے جاتے ہیں، تنہا ہوتے جاتے ہیں

  جیسے جیسے ہم مردم شناس ہوتے جاتے ہیں، تنہا ہوتے جاتے ہیں شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انسان جس پہلی حقیقت سے ٹکراتا ہے، وہ ہجوم ہے۔ ایک ایسا ہجوم جہاں ہر چہرہ ایک کہانی اور ہر آنکھ ایک خواب کی امین نظر آتی ہے۔ آغازِ سفر میں ہمیں لگتا ہے کہ جوں جوں ہم لوگوں کو جانیں گے، ہمارے رابطوں کی وسعت ہمیں معتبر بنائے گی۔ مگر یہ انسانی نفسیات کا عجیب المیہ ہے کہ مردم شناسی کا سفر دراصل خود شناسی کی ایک ایسی کٹھن منزل ہے جہاں بھیڑ کم اور سناٹا بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مردم شناسی محض چہروں کو پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ ان نقابوں کے پیچھے چھپی مصلحتوں، تضادات اور انا کے بتوں کو پہچاننے کا عمل ہے۔ جب ایک حساس دل بصیرت کی آنکھ سے دیکھتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ محبت سمجھ رہا تھا، وہ محض ضرورت کا لبادہ ہے؛ اور جسے وہ خلوص گردانتا تھا، وہ سماجی رکھ رکھاؤ کی ایک مصنوعی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے بصیرت گہری ہوتی ہے، گفتگو کے مفہوم بدل جاتے ہیں۔ ہمیں لفظوں کے پیچھے چھپی خاموشی اور مسکراہٹوں کے پیچھے دبی تلخی سنائی دینے لگتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک حساس دل رکھنے والا تنہا ہو جاتا ہے۔ وہ ہجوم میں کھڑا تو...

اپنے اپنے حصے کے سچ

 اپنے اپنے حصے کے سچ  چراغ اور سایوں کے مسافر رات کا وہ لمحہ تھا جب وقت اپنی سانس روک لیتا ہے۔ قبرستان کے شکستہ گنبد پر چاند کی زرد روشنی یوں جمی تھی جیسے کسی پرانے زخم پر نمک چھڑک دیا گیا ہو۔ نیم کے پتوں کی کڑواہٹ اور گیلی مٹی کی خوشبو ہوا میں گھل کر ایک ایسا بوجھ پیدا کر رہی تھی جو دل پر بیٹھ جائے اور ہلنے نہ دے۔ اس سنسانی کے بیچ، ایک لرزتے دیے کے گرد چار اجنبی بیٹھے تھے۔ اجنبی ضرور تھے، مگر ان کی آنکھوں میں سفر کی تھکن ایک خاموش رشتہ بن چکی تھی۔ دیے کی لو تھرتھراتی تو دیواروں پر ان کے سائے دیو قامت ہیولوں کی طرح ناچنے لگتے۔ پہلا مسافر، جس کا چہرہ زمانے کے تھپیڑوں سے پتھر کی طرح سخت ہو چکا تھا، اپنی قبا سمیٹ کر بولا: "میں اس دیس سے آیا ہوں جہاں وقت ریت نہیں، سانسوں کی طرح پھسلتا ہے۔ وہاں لوگ اپنی پیدائش کے ساتھ ہی موت کی تاریخ لکھوا دیتے ہیں۔ زندگی وہاں ایک تیاری ہے، جینے کا مقصد نہیں۔" دوسرا مسافر، جس کی آنکھیں جھیل کی طرح ساکت تھیں، آہ بھر کر گویا ہوا: "میں جس نگر سے گزرا ہوں، وہاں وقت کو قتل کر دیا گیا ہے۔ نہ ماضی کا بوجھ، نہ مستقبل کا خوف۔ مگر انجام یہ کہ ان کے چہر...

ملکیت اور محبت

  محبت اور ملکیت محبت کے عام انسانی تصورات اکثر ملکیت کے گرد گھومتے ہیں، لیکن کائنات کے وسیع کینوس پر بے لوثی کا ایک بالکل الگ رنگ بکھرا ہوا ہے جو ہم انسانوں کی سمجھ سے اکثر بالاتر رہتا ہے۔ آسمان کی نیلاہٹ میں تیرتے بادل کو دیکھیے؛ وہ کسی بنجر زمین پر برستا ہے تو یہ نہیں سوچتا کہ نیچے بسنے والے اس کے شکر گزار ہوں گے یا نہیں۔ وہ خود کو لٹا کر فنا ہو جاتا ہے تاکہ ہریالی کا جنم ہو سکے۔ بادل کا وجود ایک مسلسل ہجرت ہے، وہ مٹی سے محبت تو کرتا ہے مگر اس پر ٹھہر کر اسے بوجھل نہیں کرتا۔ کیا انسان کے پاس ایسا کوئی جذبہ ہے جو بغیر کسی معاوضے یا اعتراف کے خود کو مٹا دینے پر آمادہ ہو؟ پھر ان پرندوں کا مشاہدہ کریں جو شام ڈھلے بادلوں کے سائے میں اپنے گھونسلوں کو لوٹتے ہیں۔ پرندہ درخت کی شاخ پر بیٹھتا ہے تو شاخ کو اپنی ملکیت نہیں سمجھتا، اور جب وہاں سے اڑتا ہے تو شاخ پر اپنا کوئی نقش چھوڑنے کی ضد بھی نہیں کرتا۔ پرندے کی محبت پرواز سے ہے، کسی مستقل ٹھکانے سے نہیں۔ وہ جھیل سے پانی پیتا ہے اور بدلے میں اسے اپنی چہچہاہٹ کی صورت ایک نغمہ دے جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں مادی نفع نقصان کا کوئی خا...