سکوتِ حرف کی کلید تم نے دیکھا ہے کبھی حرف کو مرتے ہوئے بھی؟ لفظ جب اپنی ہی تقدیس کے مقتل میں گریں اور مفاہیم کی شریان سے رستا ہوا خوں اہلِ ثروت کی جبینوں پہ چمکنے لگ جائے تب کسی نوحہ گرِ وقت کی ہمت ہے کہ وہ سچ کی لکنت کو نیا لہجہ، نئی کاٹ عطا کر پائے؟ اے مبصر! ترے کشکول میں یادوں کے سوا کوئی سکہ، کوئی تعبیر، کوئی خواب بھی ہے؟ یہ جو تم وقت کی دہلیز پہ بیٹھے ہوئے ہو اور معدوم زمانوں کی نویدیں سن کر اپنے شانوں پہ کلف دار ردائیں پہنے اپنے ہونے کی گواہی میں کھڑے رہتے ہ و کیا کبھی تم نے سنا، گدھ کی اڑانوں کا وہ شور؟ جو فضاؤں میں کسی رزق کی بو پاتے ہی اپنے پنجوں میں لچک، آنکھ میں وحشت بھر لیں وصل کی رات کو ہجر کے معنی نہ پہناؤ ابھی کہ ابھی انگلیاں کٹنے کی رت آئی نہیں ابھی باقی ہے ذرا حرف کی حرمت کا بھرم ابھی باقی ہے وہ "نادیدہ جہانوں کا بدن" جس کی پوشیدہ چمک، خستہ چراغوں کے لیے ایک اعجاز بنے، ایک تجلی بن کر ظلمتِ شب کو سحر زاد تبسم دے دے #نوریات